تبلیغِ ہدایت — Page 264
نبوت کے متعلق حضرت مرزا صاحب کے دو فیصلہ کن حوالے نبوت کی بحث کو حضرت مرزا صاحب کے دو حوالوں پر ختم کرتا ہوں۔فرماتے ہیں:۔بقت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اُس پر ظلمی طور پر اسی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے۔۔۔۔میری نبوت ورسالت باعتبار محمد و احمد ہونے کے ہے نہ کہ میرے نفس کی رُو سے۔اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا ہے لہذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا“۔(ایک غلطی کا ازالہ ) پھر فرماتے ہیں:۔اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔۔۔۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔۔۔خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔(حقیقۃ الوحی ) کتاب کا خاتمہ اور خاکسار مصنف کی طرف سے دُعا اب میں اس مضمون کو جس میں حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے مختلف دعاوی کے متعلق بحث کی گئی ہے ختم کرتے ہوئے خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے بھائیوں کی آنکھوں کے پردوں کو دُور فرمائے تا وہ دیکھیں اور ان کے کانوں کے بوجھوں کو اتارے تا وہ سُنیں اور ان کے دلوں کی مہروں کو توڑے تا وہ سمجھیں۔افسوس اُن پر کہ رات کی تاریکی دُور ہونی شروع ہوگئی اور قرص آفتاب افق مشرق سے بلند ہونے لگا۔حتی کہ مغرب کے سونے والوں نے بھی کروٹ بدلی۔مگر ان نیند کے ماتوں کو ہوش نہ آیا۔عزیز و! پیارو! ہماری آنکھوں کے تارو! عمر تھوڑی ہے اور 264