تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 214 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 214

ہم ذمہ وار نہیں، لیکن حقیقی علامات ماثورہ کے متعلق جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ جو شخص خدا کا خوف رکھ کر ان دو باتوں پر غور کرے گا ، وہ ضرور حق کو پالے گا۔پہلی بات یہ ہے کہ ہر مامور کے متعلق جو علامات بیان کی جاتی ہیں، ان کا ایک مفہوم کی ہوا کرتا ہے جو علامات پر یکجائی نظر ڈالنے سے حاصل ہوتا ہے پس سب سے پہلے ہمیں علامات ماثورہ پر غور کر کے اُن کا ایک مفہوم کلی قائم کرنا چاہئے یعنی یہ معلوم کرنا چاہئے کہ علامات ماثورہ میں سے بحیثیت مجموعی وہ کون سی ہیئت کلی مستنبط ہوتی ہے جس کے مطابق مسیح موعود اور مہدی معہود کی بعثت مقدر ہے، یعنی تمام علامات اور ان کی تفاصیل کے اوپر یکجائی نظر ڈال کر پھر عقل خدا داد کی مدد سے اس بات کا پتہ لگانا چاہئے کہ اس یکجائی مطالعہ سے وہ کونسی مجموعی ہیئت ثابت ہوتی ہے جس کو تمام علامات ماثورہ کا اصل مقصود و مدعا اور اُن کی اصل روح اور ان کا لب لباب اور ان کا نچوڑ کہا جاسکتا ہے۔اور جب ہم تمام علامات اور اُن کی تفاصیل پر یکجائی نظر ڈال کر اُن سے ایک مفہوم کلی کا پتہ لگا لیں تو پھر ہمیں مدعی کو اس مفہوم کلی کے مقابل رکھ کر اس کی صداقت کا فیصلہ کرنا چاہئے۔اگر مدعی کے حالات اس مفہوم کلی کے مطابق ثابت ہوں اور جہاں تک اس مجموعی مفہوم کا تعلق ہے اس کے دعوے کی صحت میں کسی معقول شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اور دوسری طرف اگر عقلی دلائل خصوصاً ایسے دلائل جن کی صداقت قرآن سے ثابت ہو اس کے دعوے کی تصدیق کر رہے ہوں تو ہمیں تفاصیل کے بعض اختلافات کو خدا کے حوالے کرنا چاہئے اور اس مدعی کو صادق و مصدوق مان لینا چاہئے۔یہی امن کی راہ ہے جو ہمیشہ سے صلحاء کا طریق رہا ہے۔ظاہر ہے کہ جب علامات ماثورہ اپنے مفہوم کلی کے لحاظ سے ایک مدعی کی پوری پوری تصدیق کر رہی ہوں تو صرف اس وجہ سے اس کا انکار کر دینا کہ ہمارے خیال میں بعض تفاصیل ابھی تک وقوع میں نہیں آئیں ایک ہلاکت کی راہ ہے جس سے ہر مومن کو پر ہیز لازم ہے۔علامات کی اصل روح رواں تو ان کا مفہوم کلی ہی ہوتا ہے۔پس جب یہ مفہوم کلی مدعی کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر دے تو یہ سراسر نادانی ہوگی کہ ہم بعض دور افتادہ تفاصیل پر اڑ جائیں اور اس وجہ سے مدعی 214