تبلیغِ ہدایت — Page 202
ایسے تھے جو چوری اور ڈا کے جیسے خطر ناک جرائم میں مشاق و طاق تھے لیکن احمدی ہونے کے ساتھ ہی وہ گو یا بالکل نئے انسان بن گئے۔جو لوگ کبھی فرض نماز کے بھی قریب نہ گئے تھے وہ ایسے نمازی ہو گئے کہ اگر ان سے کبھی تہجد کی نماز بھی رہ جائے تو انہیں گھنٹوں افسوس رہتا ہے۔جو لوگ رمضان کے مبارک مہینے میں بھی کوئی روزہ نہ رکھتے تھے اب وہ رمضان کے علاوہ سال میں کئی نفلی روزے بھی رکھنے لگے۔اسی طرح دوسری عبادات کا حال ہے۔معاملات میں بھی ایک بہت بڑا تغیر نظر آتا ہے بیشک ہم میں بعض کمزور بھی ہیں۔لیکن بعض کا کمزور ہونا جماعت کی مجموعی حالت پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔جب ایک جماعت تیار ہوتی ہے تو سب ایک جیسے نہیں ہوا کرتے۔بلکہ بعض اچھے ہوتے ہیں۔بعض متوسط ہوتے ہیں اور بعض کمزور بھی ہوتے ہیں اور پھر بعض منافق بھی ہوتے ہیں۔صحابہ کی مقدس جماعت کا بھی یہی حال تھا اگر چہ ان کا طہارت و پاکیزگی میں بے نظیر ہونا مسلم ہے لیکن پھر بھی اُن میں سب ابو بکر و عمر وعثمان وعلی رضی اللہ عنہم جیسے نہیں تھے بلکہ بعض متوسط تھے اور بعض کمزور اور پھر بعض ایسے بھی تھے جو جیسا کہ قرآن وحدیث میں مذکور ہے منافقانہ طور پر اُن میں ملے جلے رہتے تھے۔ایک مدرسہ کی اچھی سے اچھی جماعت کو لے لو۔اُس میں بھی سب ایک جیسے نہیں ہونگے۔پس دیکھنا یہ چاہئے کہ بحیثیت مجموعی کسی جماعت کا کیا حال ہے یا اس طرح مقابلہ ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ہم میں سے اعلیٰ پایہ کے ہیں اُن کا دوسری مسلمان کہلانے والی جماعتوں کے اچھے آدمیوں سے مقابلہ کیا جائے اور جو متوسط درجہ کے ہیں۔اُن کا متوسط طبقہ سے مقابلہ کیا جائے اور جو لوگ ہم میں سے کمزور ہیں ان کا دوسرے فرقوں کے کمزور آدمیوں سے مقابلہ کیا جائے پھر پتہ لگے گا کہ کونسی جماعت اصلاح یافتہ ہے اور کونسی نہیں۔ہم دعوی سے کہتے ہیں۔ولا فخر۔اور کوئی منصف مزاج شخص اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت مرزا صاحب کے ساتھ تعلق قائم کر کے احمدیوں نے نہایت نمایاں تغیر پیدا کیا ہے اور یہ ایک بین حقیقت ہے کہ شریعت اسلامی پر کار بند ہونے اور اپنی طرز و روش کو قرآن و حدیث کے مطابق رکھنے میں احمد یہ جماعت تمام دوسرے فرقہائے اسلام سے نہ صرف ممتاز ہے بلکہ نہایت نمایاں طور پر ممتاز ہے اور عبادت الہی اور تقویٰ وطہارت اور دیانت داری میں بحیثیت 202