تبلیغِ ہدایت — Page 11
نمونہ ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اکثر مولوی پرلے درجہ کے بے دین، بداخلاق اور بداعمال ہیں؟ اور کیا واقعی انہوں نے دین کی صورت بگاڑ نہیں دی ؟ کیا اندرونی اختلافات کی کوئی حد رہی ہے؟ پھر کیا اسلام کی ظاہری شان و شوکت کا جنازہ نہیں اُٹھ رہا؟ یہ اسلام کے اندرونہ کا حال ہے۔دوسری طرف اسلام کا وجود بیرونی حملوں کا اس قدر شکار ہو رہا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ بس یہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں ہر قوم اسلام کے خلاف میدان میں اُتر آئی ہے اور چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں۔نبیوں کے سردار محمد مصطفیٰ پر گندے سے گندے اعتراض کئے جاتے ہیں اور آپ کا وجود باجود ذلیل ترین الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اسلامی تعلیم نہایت ہی بد نما شکل میں پیش کی جاتی ہے اور اس پر مذاق اُڑایا جاتا ہے۔عیسائی مذہب اپنے پورے زور پر ہے اور سلطنت کے آغوش میں دوسرے مذاہب کے خون پر پرورش پاتا اور ترقی کر رہا ہے ہندو مذہب نے بھی آریہ قوم کے جھنڈے کے نیچے ہو کر سر اٹھایا ہے اور اسلام کے خلاف حملہ آور ہے دہریت اپنے آپ کو ایک خوبصورت شکل میں پیش کر رہی ہے اور اپنا جال دنیا میں چاروں طرف پھیلا رہی ہے۔غرض اسلام کی کشتی ایک ایسے خطر ناک طوفان کے اندر گھری ہوئی ہے کہ اگر خدا کا ہاتھ اس کے بچانے کے لئے آگے نہ بڑھے تو اس کا کنارے تک پہنچنا ناممکنات میں سے ہے اور یہ تمام حالت پکار پکار کر بتا رہی ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو ڈرایا تھا اور در حقیقت اگر غور سے دیکھا جاوے تو صرف بانی اسلام نے ہی نہیں بلکہ ہر نبی نے اس وقت کی پیشگوئی کی تھی اور اپنی امت کو اس خطر ناک طوفان سے ڈرایا تھا اور دراصل یہ زمانہ صرف اسلام ہی کے واسطے خطرناک نہیں بلکہ تمام مذاہب کے واسطے ایک عام فتنہ ہے اور اگر عیسائیت کا زور ہے تو وہ بھی دراصل عیسائیت کا زور نہیں بلکہ عیسائیت کے ان باطل خیالات کا زور ہے جو بانی عیسائیت کے بعد اس کی تعلیم کے اندر شامل کر لئے گئے اور دراصل ان کا بھی نہیں بلکہ عیسائی قوم کا زور ہے جس کے ساتھ دنیا میں مادیت اور دہریت پھیلی ہے۔غرض یہ ایک عام فتنہ کا زمانہ ہے جس کے متعلق سب نبیوں نے پیشگوئی کی ہے اور اپنی اپنی امت کو ڈرایا اور ہوشیار کیا ہے۔11