تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 175 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 175

میں حضرت مرزا صاحب کا ذکر کر کے کہا کہ ان کی کل کی عالمانہ تحریر سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو خوش نہ ہوا، اور اُس نے اُسے پسند نہ کیا ہو“۔(دیکھور پورٹ مذکور ) اب ناظرین غور کریں کہ یہ کس قدر عظیم الشان فتح ہے جو اسلام کو نصیب ہوئی۔ایک جلسہ ہوتا ہے پہلے سے سوالات مقرر ہو کر مشہور کر دیئے جاتے ہیں۔سارے مذاہب کے نمائندے تیار ہوکر اس میں اپنے اپنے مذاہب کی تعلیم پیش کرتے ہیں۔آریہ بھی پلیٹ فارم پر آتے ہیں ، عیسائی بھی آتے ہیں۔برہمو بھی آتے ہیں ، سکھ بھی آتے ہیں، غیر احمدی مسلمان بھی آتے ہیں اور حضرت مرزا صاحب بھی اسلام کی طرف سے ایک مضمون لکھ کر پیش کرتے ہیں اور پہلے سے بذریعہ اشتہار سنا دیتے ہیں کہ میرا یہ مضمون سب پر غالب رہے گا اور پھر دوست و دشمن اپنے بیگانے مسلم و غیر مسلم اپنے قول سے اپنے فعل سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ واقعی یہ مضمون سب مضامین پر غالب رہا۔کیا اس سے بڑھ کر فتح بھی کوئی ہو سکتی ہے؟ یہ مضمون اب انگریزی میں بھی ترجمہ ہو کر شائع ہو چکا ہے۔(دیکھو ٹیچنگز آف اسلام ) اور اس کے ذریعہ ہمیں بلادِ مغربی میں اسلامی تبلیغ میں بہت بڑی مدد ملی ہے۔یورپ و امریکہ کے علم دوست لوگ جب یہ کتاب پڑھتے ہیں تو عش عش کر اٹھتے ہیں اور ان کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔بعض اہل الرائے لوگوں نے جو خیالات اس مضمون کے متعلق ظاہر کئے ہیں اُن کا اقتباس درج ذیل کیا جاتا ہے۔دی سکاٹسمین لکھتا ہے :۔مذاہب مختلفہ کا مقابلہ مطالعہ کرنے والے طبقہ میں یقینا اس کتاب کا بہت خیر مقدم ہوگا۔پی ای کد او د جزیر کلمپنی سے لکھتا ہے :۔یہ کتاب عرفان الہی کا ایک سرچشمہ ہے۔“ برسٹل ٹائمز اینڈ مررلکھتا ہے:- ”یقینا وہ شخص جو اس رنگ میں یورپ و امریکہ کو مخاطب کرتا ہے کوئی معمولی آدمی نہیں ہو سکتا۔175