تبلیغِ ہدایت — Page 143
کبھی نہیں ہوا اور نہ کوئی عدم خانہ کہیں ہے بلکہ کسی چیز کو عدم نہیں۔ایسا ہی وید کی اس انصافانہ تعلیم کو بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مکتی یعنی نجات کرموں کے مطابق مہا کلپ تک ملتی ہے بعد اس کے پر ماتما کی نیا کے مطابق پھر جسم انسانی لینا پڑتا ہے محدود کرموں کا بے حد پھل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ پر میشور گناہوں کو بالکل نہیں بخشتا ہے۔۔۔۔۔اور میں وید کی رُوح سے اس بات پر کامل و صحیح یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضرور ایشور کا گیان ہے ان میں ذرا بھی غلطی یا جھوٹ یا کوئی قصہ کہانی نہیں ہے ان کو ہمیشہ ہرنئی دنیا میں پر ماتما جگت کی ہدایت عام کے لئے پر کاش کیا کرتا ہے۔اس سرشٹی کے آغاز میں جب انسانی خلقت شروع ہوئی پرماتما نے ویدوں کو۔۔۔۔۔۔چار رشیوں کے آتماؤں میں الہام دیا۔۔۔۔جس طرح میں اور راستی کے برخلاف باتوں کو غلط سمجھتا ہوں ایسا ہی میں قرآن اور اس کے اُصولوں اور تعلیموں کو جو وید کے مخالف ہیں۔۔۔۔اُن کو غلط اور جھوٹا جانتا ہوں ، لیکن میرا دوسرا فریق میرزا غلام احمد ہے وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا ہے اور اس کی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے۔۔۔۔جس طرح میں قرآن وغیرہ کو پڑھ کر غلط سمجھتا ہوں ویسے ہی وہ اُمّی محض سنسکرت سے اور ناگری سے محروم مطلق۔۔۔۔بغیر پڑھنے یا دیکھنے ویدوں کے ویدوں کو غلط سمجھتا ہے۔۔۔۔اے پر میشور ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر۔۔۔۔۔کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزبات نہیں پاسکتا۔(دیکھو خبط احمد یہ صفحہ ۳۴۴) علاوہ ازیں پنڈت لیکھرام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ شخص ( یعنی حضرت مرزا صاحب) تین سال کے اندر ہیضہ سے مرجائے گا کیونکہ (نعوذ باللہ ) کذاب ہے۔نیز لکھا کہ تین سال کے اندر اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس کی ذریت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔( دیکھو پنڈت صاحب کی کتاب ” تکذیب براہین احمدیہ صفحه ۲۱۱ و کتاب کلیات آریہ مسافر صفحه ۵۰۱) گویا حضرت مرزا صاحب کے مقابل پر پنڈت لیکھرام نے بھی اپنے پر میشور کی طرف سے ایک خبر پا کر دنیا کو 143