تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 131 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 131

حضرت مرزا صاحب کا آریوں سے مقابلہ دوسرا مذہب آریوں کا مذہب ہے ان لوگوں نے پنڈت دیانند صاحب سرسوتی کی لیڈری میں مذہبی جوش و خروش سے از خود رفتہ ہو کر اسلام پر اعتراضات کے بارہ میں پادریوں کا پس خوردہ کھایا۔مگر بدزبانی میں اُن سے بھی آگے نکل گئے۔ان لوگوں کی تحریر وتقریر اسلام کی عداوت اور مقدس بانی اسلام کی دشمنی سے لبریز ہوتی ہے اور انہوں نے گالیاں دینے میں وہ ید طولی حاصل کیا ہے کہ اور سب قوموں کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔روحانیات سے انہیں بالکل مسن نہیں اور اپنے جاہلانہ خیالات کی محدود چار دیواری میں ایسے گھرے ہوئے ہیں کہ باہر کی روشنی ان کی آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے۔حضرت مرزا صاحب نے اُن کے متعلق خوب لکھا ہے کہ :- کیڑا جو دب رہا ہے گوبر کی تہ کے نیچے اُس کے گماں میں اس کا ارض و سما یہی ہے اُن کے اپنے مذہب کا حال دیکھو تو وہ سرے سے مذہب کہلانے کا حق دار ہی نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے جو ان کے اپنے دماغوں نے گھڑ رکھا ہے ہاں ایک خوبی اُن میں بے شک ہے کہ انہوں نے اسلام کی تعلیم اور اردگرد کے حالات سے متاثر ہوکر بت پرستی کے خلاف ہندوؤں میں اچھی کوشش کی ہے جس میں ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں مگر افسوس کہ بت پرستی سے نکال کر انہوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی پر خطر وادی میں لا ڈالا ہے جو اپنے خطرناک نتائج کی وجہ سے بت پرستی سے کم نہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو برا بھلا کہنا انہوں نے اپنا وطیرہ بنالیا ہے ان لوگوں کا مذہب دوستونوں پر قائم ہے:۔اوّل یہ کہ خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں بلکہ صرف ان کو جوڑ توڑ کر اپنا کام چلا رہا ہے ورنہ یہ چیزیں ایسی ہی قدیم ہیں جیسا کہ خود خدا کی ذات ہے یعنی رُوح و مادہ خدا کی طرح ازل سے ہیں اور ابد تک خدا کے ساتھ ساتھ چلے جائیں گے خدا تعالیٰ نہ تو ان کے بنانے پر قادر ہے اور نہ ان کے مٹانے پر۔صرف شکل وصورت کے ہیر پھیر سے اپنی حکومت چلا رہا ہے۔131