تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 104 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 104

اس کے مقابل پر دقبال گویا خود بخود تحلیل ہونا شروع ہو جائے گا اور اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ جائیں گے اور مسیح موعود کے سامنے میدان میں نکلنے سے ڈرے گا اور خدا تعالیٰ مسیح موعود کے زمانہ میں ایسی مخفی طاقتوں کو حرکت میں لائے گا کہ جو دقبال کا اندر ہی اندر خاتمہ کر دیں گی۔چنانچہ جیسا کہ آگے چل کر بیان کیا جائے گا اس کے بھی آثار ظاہر ہورہے ہیں۔چوتھا سوال یہ ہے کہ باب لد سے کیا مراد ہے؟ سو جاننا چاہئے کہ بعض محدثین جو یہ کہتے ہیں کہ لڈ ایک جگہ کا نام ہے جو دمشق کے پاس ہے یہ محض ان کا خیال ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قول کی کوئی تاویل مروی نہیں ہوئی۔اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باب کر کی تعیین نہیں فرمائی تو ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم معقول طور پر اس کی کوئی تاویل کریں۔سو ہم کہتے ہیں کہ لت ایک عربی لفظ ہے جو الد کی جمع ہے جس کے معنے ہیں ” جھگڑا اور مجادلہ کرنے والا۔جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے وَهُوَ الَدُ الخِصَامِ ( یعنی وہ سب جھگڑنے والوں سے زیادہ جھگڑالو ہے) نیز فرما یاقو مالنا ( یعنی جھگڑ الوقوم ) پس لفظی طور پر باب لن کے یہ معنے ہوئے کہ ” جھگڑا اور مجادلہ کرنے والوں کا دروازہ “۔اور اس لحاظ سے حدیث نبوی کے یہ معنے بنتے ہیں کہ مسیح موعود دقبال کو مجادلہ اور جھگڑا کرنے والوں کے دروازہ پر قتل کرے گا یعنی دجال مسیح موعود سے بھاگے گا، لیکن آخر مجادلہ کرنے والوں کے دروازہ کے پاس مسیح موعودا سے آدبائے گا اور اُسے قتل کر دے گا۔اب اس تشریح کے ماتحت کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔کیونکہ اس کلام کے صاف طور پر یہ معنے ہیں کہ دجال مسیح موعود کے سامنے آنے سے بھاگے گا، لیکن مسیح موعود اس کا تعاقب کرے گا۔اور آخر مجادلہ و مناظرہ کے میدان میں اُسے آدبائے گا اور اسے مار ڈالے گا یعنی اس کا قتل تلوار کا قتل نہ ہوگا بلکہ دلائل اور براہین کا قتل ہوگا۔وہو المراد۔پانچواں سوال حل طلب یہ ہے کہ مال کی طرف بلانے کے کیا معنے ہیں؟ سواس کا جواب سہل ہے کہ مال سے روحانی مال مراد ہے جو مسیح موعود نے دنیا کے سامنے کثرت کے ساتھ پیش کیا، لیکن دنیا نے اُسے قبول نہ کیا۔دوسرے یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسیح موعود اپنے مخالفوں کے لئے بڑے بڑے انعام مقرر کرے گا تا وہ اس کے سامنے آویں اور اس کا مقابلہ کر کے انعام 104