سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 9 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 9

سیدنا بلال 13 آزاد بلال اپنے آقا کے قدموں میں 14 سیدنا بلال غلامی کی زنجیر کٹ گئی مجھے معلوم نہیں کہ یہ خواب تھا یا حقیقت تھی یا پھر میں ان کوڑوں کی وجہ سے اپنے حواس کھو بیٹھا تھا اور آج بھی میں خود سے یہ سوال کیا کرتا ہوں۔”اے بلال! اے پٹتے ہوئے بلال! کیا واقعی تو نے اس دن بابرکت اور مبارک روحوں کا ہی وطن دیکھا تھا ؟“ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ مجھے کب تک مارتے رہے۔اور میں کب تک بے سُدھ رہا۔مجھے یوں کچھ یاد پڑتا ہے کہ میں نے سودے بازی کی بات سنی۔ایک کرخت سی آواز تھی جو امیہ بن خلف کی تھی اور دوسرا کوئی ملائم اور شیریں سالہجہ تھا۔درہموں کی بات ہو رہی تھی۔مجھے نامعلوم سی ہوش آئی۔میں نے آنکھ کھولنے کی کوشش کی لیکن مکہ کے سورج نے میری نظر چندھیادی اور میری آنکھیں ایک بار پھر بند ہوگئیں اور میرے کانوں میں وہی درہموں کی آوازیں آ رہی تھیں۔مکہ والوں کی تو زندگی ہی درہموں کے گرد گھومتی تھی مگر میری زندگی کی سب دلچسپیاں ختم ہو چکی تھیں اور میں اب ایسی نیند سو جانا چاہتا تھا کہ جہاں ان ظالموں اور موذیوں کی آوازیں مجھے جگا نہ سکیں۔انسان اپنے ظلم کی چکی میں دوسرے انسانوں کو پیس ڈالنا چاہتا ہے۔لیکن اللہ تو موت دینے میں بھی شفیق ہے رحیم ہے مہربان ہے۔لیکن اب مجھے ایک تیسری آواز بھی سنائی دی یہ ابوسفیان تھا اور کہہ رہا تھا کہ سزا کے دوران غلام کا سودا نہیں ہو سکتا۔یہ مکہ کے رواج کے خلاف ہے لیکن امیہ نے بات کاٹی اور کہا کہ د نہیں۔اس کی جان نکل چکی ہے۔ابوبکر چاہے تو اس لاش کا سودا مجھے سو درہم میں مہنگا نہیں“۔گفتگو تھم گئی۔ابوبکر میرے قریب آئے اور میرا نام پکارا۔میں نے تیز دھوپ کے باوجود آنکھ کھول کر انہیں دیکھا۔امیہ تو بھڑک اٹھا اور بکنے لگا۔اب کالے۔سیاہ رو جانور۔وحشی سانس لے“۔مجھے جیت دیکھ کرامیہ کی آنکھیں چمکنے لگیں اور بولا۔ابو بکرا یہ زندہ ہے زندہ۔اب تو دو سولوں گا لینا ہو تو دوسو درہم گن دو اور لے جاؤ! مجھے محسوس ہوا کہ میری رسیاں ڈھیلی کی جارہی ہیں۔میری چھاتی پر سے چکی کا پاٹ اٹھا لیا گیا ہے۔اور بلال ایک بار پھر بک گیا۔اور کوئی نوجوان مجھے سہارا دے رہا تھا۔مجھے نظر نہیں آ رہا تھا۔میں نے پہچاننے کی کوشش کی۔یہ زیڈ تھا۔محمد کا منہ بولا بیٹا۔مجھ میں بات کرنے کی طاقت ہی نہ تھی اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی۔زید ہی سب کچھ کہہ گیا۔بلال غلامی کی زنجیر کٹ گئی۔سے کہا۔امیہ خوش تھا اور ہنستے ہنستے رقم بھی گنتا جار ہا تھا اور طنز سے کہنے لگا۔ابو بکر میں تو اسے سو درہم میں بھی دے دیتا۔اور پھر مجھے اس کے قہقہوں کی آوزیں سنائی دینے لگیں۔اسلام میں داخل ہونے والا پہلا غلام میں نے ابو بکر کو دیکھا تو مجھے یوں محسوس ہوا گویا وہ نور کا ایک چراغ ہے اور انہوں نے امیہ امیہ تم چوک گئے۔تم دھوکا کھا گئے۔تم ہزار مانگتے تو میں ہزار کے لئے بھی