سیدنا بلالؓ

by Other Authors

Page 10 of 29

سیدنا بلالؓ — Page 10

سیدنا بلال تیار تھا۔15 تربیت کا سفر تربیت کا سفر اور ابوبکڑ نے مجھے زیڈ کی مدد سے اٹھایا اور سہارے سے ہی دونوں مجھے اپنے گھر لے گئے۔پانچ دن میں موت وحیات کی کشمکش میں رہا۔کبھی ہوش بھی آجاتی لیکن زیادہ وقت ہے ہوش اور بے سدھ پڑا رہتا۔میرے زخموں پر خدا جانے کون کون سی مرہم لگائی گئی۔ایک مرتبہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے کمرے میں ایک شخص کو دعاؤں میں مصروف دیکھا۔لیکن پھر مجھے غشی آ ے میں ایک شخص کود گئی۔چھٹا دن چڑھا تو میں اس قابل تھا کہ باہر تازہ ہوا میں آؤں۔ابو بکر کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔خود بکری کا دودھ نکالا اور مجھے اپنے ہاتھوں سے پلایا اور کہا کہ اللہ کے رسول نے تمہارے پاس بیٹھ کر تین دن تک تمہارے لئے دعائیں کیں۔یہاں تک کہ تمہارا بخار ٹوٹ گیا اور خطرہ ٹل گیا تو پھر آپ تشریف لے گئے۔میں نے اپنی زندگی میں اتنا خوش قسمت کسی کو نہیں دیکھا۔بلال ! اب تم اسلام میں داخل ہو۔کل ہم دونوں انہیں ملنے جائیں گئے۔آزاد بلال میں اسلام میں داخل ہونے والا پہلا غلام تھا۔اور میرا سر آج اس فخر سے اونچا ہے کہ میں ان کم ترین لوگوں میں سے تھا جسے پتھروں سے نکال کر ثریا پر پہنچایا گیا۔میں اسلام میں داخل ہونے والے ابتدائی نو لوگوں میں سے ہوں۔اے اللہ ! میں کن لفظوں میں تیرا شکر ادا کروں؟ میں اب آزاد تھا۔امیہ بن خلف جیسے فرعون اور ظالم کے پنجے سے نکل چکا تھا۔لیکن اب میرا 16 سیدنا بلال دل محمد کا غلام ہو چکا تھا اور یہ وہ غلامی تھی جس پر میں ہزار آزادیاں قربان کر دوں۔سچ تو یہ ہے کہ محمد کے پاس جو بھی آیا پھر ان کا غلام ہی ہو گیا۔میرا بھی یہی حال ہوا۔میں بھی حضور کے قدموں سے جدا نہیں ہونا چاہتا تھا۔اب میں اسلام کا غلام تھا۔محمد کا غلام تھا۔اپنے خدا کا غلام تھا۔اپنے آقا کے قدموں میں ابو بکر مجھے لے کر آپ کے پاس آئے میں خدا کے رسول کے سامنے حاضر تھا۔میں نے انہیں اس سے پہلے دیکھا تو تھا لیکن اب قریب سے دیکھا۔میرا دل خوشی اور اطمینان سے بھر گیا۔آپ کی پیشانی روشن تھی۔آنکھیں سیاہ تھیں لیکن ان میں شریتی رنگ جھلکتا تھا۔مصافحہ بڑی گرمجوشی سے کرتے تھے۔آپ کی چال بڑی تیز مگر پُر وقار تھی۔آپ مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ابوبکڑ سے سارا ماجرا سناتو انہیں دعائیں دیں اور مجھے تسلی دیتے رہے۔پھر اسلام کی باتیں بتانے لگے اور ایک خدا کی عبادت کی نصیحت کرتے رہے۔اسی دن میں نے دوسری مرتبہ اسلام کا نام سنا۔لیکن ابھی مجھ پر اس کا پورا مطلب واضح نہ تھا۔آپ نے میری لاعلمی کو بھانپ لیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بڑی محبت سے بولے۔بلال! خدا کی رضا کے حصول کا نام اسلام ہے۔خدا ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔خدا کے بندوں سے نیکی کرنا اسلام ہے۔خواہ وہ کسی ملک یا کسی رنگ اور نسل کے ہوں۔بلال! اسلام میں سب برابر ہیں۔اور یہ وہ دین ہے جو خدا نے خود اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔“ اب مجھے پتہ لگا کہ اسلام کیا ہے۔اسلام میرا دین اور محمد میرے آقا تھے۔میرے محبوب تھے۔اسلام لانے کے بعد میری تو دنیا ہی بدل گئی تھی۔اب میں ابو بکر کے ہاں رہنے لگا۔یہ مکہ کے سرداروں میں سے تھے لیکن مغرور اور متکبر