سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 650
650 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ڈائری نوشتہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ از ۱۴ مارچ تا ۱۸ مارچ ۱۹۰۹ء بر موقعه رخصتانه سیده نواب مبارکه بیگم صاحبه ۱۴ مارچ ۱۹۰۹ ء اتوار الحمد لله والمنة لله الحمد هر آن چیز که خاطر میخواست آخر آمد زپس پرده تقدیر کہ آج مبار کہ بیگم صاحبہ صاحبزادی کلاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جن کا نکاح مجھ سے ۷ فروری ۱۹۰۸ء کو بروز دوشنبہ ہوا تھا رخصت ہو کر میرے گھر آئیں اور میرے کلبۂ احزان کو منور کیا۔یہ رخصتا نہ بوقت ۳ بجے وقوع میں آیا۔میں نے ان میں حسن صورت و حسن سیرت دونوں کو پایا۔لیاقت علمی بھی خاصی ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔یہ خدا کا عجیب فضل ہے کہ میرے جیسے نا کارہ کے ساتھ اس درج برج نبوت سے میرا پیوند کر دیا۔ذالک فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم رخصتانہ نہایت سیدھی سادی طرز سے ہوا۔مبارکہ بیگم صاحبہ کے آنے سے پہلے مجھ کو حضرت ام المؤمنین علیہا السلام نے فہرست جہیز بھیج دی اور دو بجے حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام خود لے کر مبارکہ بیگم صاحبہ کو میرے مکان پر ان سیڑھیوں کے راستے سے جو میرے مکان اور حضرت اقدس کے مکان کو ملحق کرتی ہیں۔تشریف لائیں۔میں چونکہ مسجد میں تھا۔اس لئے ان کو بہت انتظار کرنا پڑا اور جب بعد نماز میں آیا تو مجھ کو بلا کر مبارکہ بیگم صاحبہ کو بایں الفاظ نہایت بھری آواز سے کہا کہ میں اپنی یتیم بیٹی کو تمہارے سپرد کرتی ہوں اس کے بعد ان کا دل بھر آیا اور فور اسلام علیک کر کے تشریف لے گئیں۔۱۵ مارچ ۱۹۰۹ء دوشنبه آج میں نے تمام احمدی بھائیوں کو جو قادیان میں ہیں اور بعض عمائد قصبہ کو دعوت ولیمہ دی ہے۔مبارکہ بیگم صاحبہ کے ساتھ میں نے شادی محض خداوند تعالیٰ کی رضا جوئی اور حضرت اقدس کے تعلقات کے بڑھانے کے لئے کی۔مگر خداوند تعالیٰ نے ماسوائے اس کے مجھ پر بہت فضل کیئے۔حسب کے لحاظ