سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 642
642 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کالج کے پروفیسر بھی نواب صاحب کی قوت عمل اور بلندی کردار کی وجہ سے دب جاتے تھے۔یہ سب تفصیلات اسی تذکرہ کے لئے مخصوص ہیں۔والد صاحب کی وفات کے بعد جب اپنی جاگیر کے صاحب اقتدار ہوئے اس وقت ایک کثیر رقم آپ کے خزانہ میں موجود تھی۔آپ ہمیشہ علم دوستی کے پیکر رہے آپ کا روپیہ ہمیشہ نیک کاموں میں خرچ ہوا۔خواتین کی حالت کی اصلاح کے لئے آپ نے ایک انجمن مصلح الاخوان قائم کی اور ایک سکول قائم کیا جس کے کل اخراجات آپ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔میں ایک بصیرت کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آپ کا روپیہ ہمیشہ کارخیر میں صرف ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے منہیات سے آپ کو محفوظ رکھا اور اس میں سر یہ تھا کہ وہ ازل سے مسیح موعود و مہدی مسعود کی دامادی کیلئے منتخب ہو چکے تھے۔حضرت نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بزرگی کا پہلے سے علم تھا اور وہ حسن ظن رکھتے تھے اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نواب ابراہیم علی خان کی علالت کے ایام میں دعا کے لئے بلایا گیا تھا۔تا ہم حضرت اقدس سے تعلقات کی ابتداء ۱۸۸۹ء سے ہوئی جب کہ حضور نے با علام الہی بیعت کیلئے دعوت دی۔حضرت نواب صاحب کی پاک بازی اور مطہر فطرت کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ آپ نے پہلا خط جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا اس میں آپ نے یہی سوال کیا تھا کہ پر معصیت حالت سے کیونکر رستگاری ہو۔اس سوال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی روح میں تزکیہ نفس اور طہارت قلب کے لئے کس قدر جوش تھا تا کہ آپ ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوں جو قد وس خدا کے حضور آپ کو قریب تر کر دے۔حضرت اقدس نے آپ کو لکھا کہ: جذبات نفسانیہ سے نجات پانا کسی کے لئے بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ عاشق زار کی طرح خاکپائے محتانِ الہی ہو جائے اور بصدق ارادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے جس کی روح کو روشنی بخشی جاوے تا اسی کے چشمہ صافیہ سے اس فروماندہ کو زندگی کا پانی پہنچے اور اس تر و تازہ درخت کی ایک شاخ ہو کر اس کے موافق پھل لاوے“۔اے حضرت اقدس نے یہ خط ۱۷ اگست ۱۸۹۰ء کولود ہیا نہ سے لکھا تھا سعادت از لی رفیق راہ تھی اور