سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 595
595 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ طرح اندھا دھند کام کرتے تھے کہ کئی بار ان پر نمونیہ نے حملہ کیا۔میر صاحب کی وفات سلسلہ کا نقصان ہے اور اتنا بڑا نقصان ہے کہ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ اس نقصان کو پورا کرنا آسان نہیں۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اس طرز کے تھے۔ان کے بعد حافظ روشن علی صاحب اور تیسرے میر محمد اسحق صاحب اس رنگ میں رنگین تھے۔یہ تقریر حضور نے اس رقت اور سوز سے فرمائی کہ حضور کی آواز رُک رُک جاتی تھی اور سننے والوں کی چھینیں نکل رہی تھیں۔تقریر کے بعد حضور نے نہایت خشوع و خضوع سے دعا فرمائی اور تمام حاضرین نے بھی نہایت عاجزی اور زاری سے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں۔اس کے بعد حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کو نسل دینے کا انتظام کیا گیا اور فسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد گیسٹ ہاؤس ( جہاں حضرت میر صاحب کی رہائش تھی ) کے بیرونی حصہ میں جنازہ لایا گیا اور رات بھر کے لئے پہرہ دار مقرر کر دیئے گئے۔اس کے بعد بارہ بجے کے قریب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ واپس تشریف لائے۔جنازہ کل بعد نماز عصر پڑھا جائے گا۔اس حادثہ کی اطلاع جماعت ہائے احمدیہ لاہور، امرتسر ، جالندھر، لدھیانہ، گوجرانوالا، لائل پور، منٹگمری، سیالکوٹ ، گجرات وغیرہ کو بذریعہ تار رات کو ہی دے دی گئی۔حضرت مسیح موعود کے پرانے صحابہ کو نام بنام حضرت اُم المؤمنین نے ان دنوں خاص طور پر دعائیں کرنے کا ارشاد فرمایا۔جماعت احمدیہ کے لئے چند ہی دنوں میں یہ دوسرا صدمہ ہے اور بہت بڑا صدمہ ہے۔ایسے وقت میں جبکہ ہمارے دل نہایت ہی حزیں اور دردمند ہیں اور اس لئے دردمند ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی دو بہت بڑی نعمتیں لے لی ہیں۔ہمیں اسی کے حضور جھکنا اور اسی سے جماعت کے لئے خیر و برکت مانگنا اور غلبہ اسلام کے لئے زیادہ سے زیادہ سامان عطا کرنے کی التجائیں کرنی چاہئیں۔! حضرت میر محمد اسحق صاحب کی ایک امتیازی خصوصیت اس میں تو کوئی شبہ اور کلام نہیں کہ آپ سلسلہ کے گراں قدر رتن اور رکن تھے اور ان کی زندگی سلسلہ کی خدمت کے لئے عملاً وقف تھی مگر خدام سلسلہ میں ان کو بعض خصوصیات حاصل تھیں اور یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل تھا۔میں ان امتیازی خصوصیات میں سے صرف ایک کا ذکر کروں گا۔سب سے اول میں اس خصوصیت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس نے ان کے وجود کو شعائر اللہ میں