سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 594 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 594

594 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمت دین اور خدمت خلق اللہ کیلئے وقف تھا جو احمدیت کا ایک درخشندہ اور ضوافشاں ستارہ تھا اور حقیقت تو یہ ہے کہ جس کی خوبیوں کا شمار ہم سے ممکن نہیں۔یعنی حضرت میر محمد اسحق صاحب انہیں آج بروز جمعہ یکا یک خدا تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کل سارا دن آپ دینی خدمات میں مصروف رہے۔مگر شام کے قریب گھر تشریف لے جاتے ہوئے بیمار ہو گئے اور چار پائی پر اٹھا کر آپ کو گھر پہنچایا گیا (اس کے بعد کے حالات دوسری جگہ درج کئے گئے ہیں ) کل کی رات اور آج کے امارچ کا دن نہایت ہی تشویش میں گزرا۔جس جس کو آپ کی علالت کی اطلاع پہنچی اور اعلان عام کے ذریعہ سب احمدی احباب کو پہنچانے کی کوشش کی گئی۔سب نے نہایت ہی درد اور کرب کے ساتھ دعا کی۔علاج معالجہ میں بھی ہر ممکن کوشش کی گئی۔مگر چھ بجے شام کے بعد نبض بہت زیادہ کمزور ہو گئی اور خطرہ بہت بڑھ گیا۔حافظ محمد رمضان صاحب بلند آواز سے قرآن کریم کی دعائیں پڑھنے لگے۔نیز سورہ یسین کی تلاوت کرتے رہے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بھی دوسرے صحن میں جا کر قرآن کریم پڑھتے رہے۔پھر حضور اس کمرہ میں تشریف لے آئے۔جہاں حضرت میر صاحب تھے اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بہت دیر تک رفت بھری آواز میں قرآن کریم کی دعائیں فرماتے رہے۔یہ نظارہ نہایت ہی رقت انگیز تھا۔کمرہ کے اندر اور باہر لوگوں کی چھینیں نکل رہی تھیں۔اس وقت حضور نے فرمایا۔اگر یہ رونا دعا کا ہے تو ٹھیک ہے۔ورنہ گناہ ہے۔حضور پھر باہر تشریف لے آئے۔چونکہ نماز مغرب کا وقت ہو چکا تھا حضور نے فرمایا۔نماز کی تیاری کی جائے۔ابھی نماز شروع نہ ہوئی تھی کہ حضرت میر صاحب کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کو اطلاع دی گئی تو حضور اندر تشریف لے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آکر مغرب وعشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں۔نماز سے قبل حضور نے ارشا د فر مایا کہ دوست دعا ئیں بہت کریں۔نماز کے بعد فرمایا کہ دوست بیٹھے رہیں اور ایک مختصر تقریر فرمائی جس میں آئندہ دنوں میں بالخصوص آج کی رات بہت دعائیں کرنے کا ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا۔میر محمد الحق صاحب خدمات سلسلہ کے لحاظ سے غیر معمولی وجود تھے۔درحقیقت میرے بعد علمی لحاظ سے جماعت کا فکر انہی کو رہتا تھا۔وہ رات دن قرآن و حدیث پڑھانے میں لگے رہتے تھے۔زندگی کے اس آخری دور میں وہ کئی بارموت کے منہ سے بچے۔کیونکہ جلسہ سالانہ پر وہ اس