سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 590 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 590

590 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اور تفصیلی حالات جدا گانہ کتاب میں لکھنا چاہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے خود ان کو اور حضرت میر صاحب کو اپنے حضور طلب کرلیا۔محمود احمد عرفانی ۲۰،۱۹ فروری ۱۹۳۳ء کی درمیانی رات کو فوت ہو گئے اور حضرت میر محمد الحق صاحب ۱۷ مارچ ۱۹۴۴ء کو فوت ہوئے گویا ایک مہینے کے وقفہ سے دونوں نے عالم بقا کی راہ لی۔میں ان کا کسی قدر تفصیلی تذکرہ اپنے رنگ میں لکھنا چاہتا تھا مگر عزیز مکرم مولوی عبدالمنان صاحب نے مجھے لکھا کہ وہ حضرت میر صاحب کی لائف لکھ رہے ہیں مجھے اس سے بے انتہا خوشی ہوئی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق دے۔اب میں اس کتاب میں بجائے خود کچھ لکھنے کے ان مضامین کو یکجا کر دیتا ہوں جو حضرت میر صاحب کی وفات پر معزز ہم عصر الفضل نے شائع کئے ہیں۔وباللہ التوفیق۔حضرت میر محمد الحق صاحب کی پیدائش حضرت میر محمد اسحق رضی اللہ عنہ کے آباؤ اجداد کے رفیع المنزلت خاندان کا تذکرہ سیرۃ ائم المؤمنین کی جلد اول میں شرح وبسط سے ہو چکا ہے وہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کی زندہ ذکور ا ولا د میں دوسرے بیٹے تھے۔حضرت میر صاحب کو مولوی نذیرحسین صاحب دہلوی سے بڑی محبت تھی۔اس کی وجہ یہ تھی وجه تسمیه که مولوی نذیر حسین صاحب حضرت میر صاحب کے استاد بھی تھے۔اور دہلی کے اہلحدیث کے سرگروہ بھی تھے۔ایک دفعہ مولوی نذیر حسین صاحب اور ہیا نہ میں حضرت میر صاحب سے ملنے آئے جہاں وہ بسلسلہ ملا زمت مقیم تھے۔حضرت میر صاحب میر محمد اسماعیل صاحب کو جو ابھی بچے ہی تھے، ملانے کے لئے لے گئے۔مولوی نذیر حسین صاحب نے از راہ شفقت سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔برائے کردن تنبیه فتاق دوباره آمد اسماعیل و اسحق اس بناء پر جب میر محمد الحق صاحب پیدا ہوئے تو حضرت میر صاحب نے ان کا نام محمد الحق رکھا اور خدا کی قدرت کہ وہ شعر جو اس وقت اتفاق سے ان کے منہ سے نکلا وہ ایک حقیقت بن کر عالم وجود میں آیا۔حضرت میر محمد الحق صاحب کی تعلیم و تربیت حضرت میر محمد اسحق صاحب کی تعلیم و تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت ام المؤمنین کے آغوش محبت میں ہوئی۔حضرت اُم المؤمنین کا انہوں نے دودھ بھی پیا۔عربی کی ابتدائی کتا بیں