سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 589
589 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ تھے ان کی خدمات اور شاندار قربانیاں قابل احترام وصد ناز تھیں۔جیسے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب وغیر ہم ایک کثیر تعداد ایسے مخلصین کی تھی جنہوں نے آپ کے سامنے وفات پائی اور فطری طور پر اپنے ان روحانی بچوں کی وفات پر آپ کو صدمہ ہوا مگر خدا تعالیٰ کی مشیت یقین کر کے اس کی رضا پر راضی ہوگئیں۔انہیں حوادث میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات اور اس کے بعد جماعت میں بعض لوگوں کی لغزش کا صدمہ بھی بڑا صدمہ تھا مگر خدا کی رضا کے لئے برداشت کیا۔میں ایک انشراح صدر کے ساتھ کہتا ہوں کہ حضرت ام المؤمنین کی زندگی تو اس لحاظ سے ہر آئے دن اپنی جماعت کے تعلقات کے سلسلہ میں کسی نہ کسی ابتلا کو لے کر آتی ہے اور پھر آپ دائم المريض ہیں۔تقاضائے عمر بجائے خود ہے۔مگر با ایں کوئی نہ کوئی عارضہ لاحق رہتا ہے مگر کیا مجال ہے کہ کبھی شکایت ہو یا چڑ چڑا پن پیدا ہو یا معمولات میں فرق آئے۔ایک کوہ وقار کی جماعت میں صبر اور حوصلہ کے ساتھ خدا کی پناہ میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔جن حوادث اور واقعات کا میں نے ذکر کیا ہے وہ بھی کچھ کم نہ تھے کہ بعض اور دلوں کو ہلا دینے والے واقعات پیش آئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کی ہونہار اور صاحب علم صاحبزادی کا انتقال حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی تین ایسی ازدواج کا انتقال جو سلسلہ کے لئے خواتین کی تعلیم و تربیت اور تنظیم کے لئے بمنزلہ روح تھیں۔میں کس کس واقعہ کا ذکر کروں یہ ایک دردناک مگر ایمان باللہ اور قلب سلیم کے مظاہرہ کی داستان ہے۔بالآخر دو اور روح فرسا واقعات پیش آئے جن کا حضرت اُم المؤمنین کے جسم اور روح کے ساتھ خاص تعلق ہے یعنی حضرت میر محمد الحق صاحب کی وفات جو حضرت اُم المؤمنین کے چھوٹے بھائی تھے جن کو بچوں کی طرح پرورش کیا اپنا دودھ پلایا اور دوسرے حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی وفات جو حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے شوہر تھے جن کو خدا تعالیٰ نے حجتہ اللہ کا خطاب دیا تھا۔میں ان دونوں بزرگوں کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کرنا چاہتا ہوں۔اس سے جماعت کے تاثرات کا پتہ لگے گا اور حضرت اُم المؤمنین کے مقام صبر ورضا کی شان بلند کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر حضرت میر محمد الحق صاحب کا ایک مختصر تذکرہ محمود احمد عرفانی دوسری جلد میں لکھنے کا عزم رکھتے تھے