سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 586 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 586

586 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت اُم المؤمنین کا مقام صبر ورضاء بالقضا میں یہ نہایت عالی مقام ہے جو ہر شخص کو میسر نہیں آتا۔صبر بہ ظاہر تو ایک نیچرل اور طبعی امر ہے جو انسان کو ان مصیبتوں اور بیماریوں پر کرنا پڑتا ہے جو اس پر ہمیشہ پڑتے رہتے ہیں اور انسان بہت سے سیاپے اور جزع فزع کے بعد صبر اختیار کرتا ہے مگر یہ صبر کوئی اخلاق میں داخل نہیں اور نہ انسان کے اخلاقی کمال کا ثبوت اور نہ کسی نیکی کے رنگ میں اجر کا موجب ہوسکتا ہے بلکہ وہ ایک طاقت ہے جو تھک جانے کے بعد ضرور تا خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے کیونکہ انسان یہ قدرت اور قوت نہیں رکھتا کہ ایک طویل زمانہ تک اس مصیبت پر ماتم کرتا رہے۔بلکہ طبعی حالتوں میں سے یہ بھی ایک حالت ہے کہ مصیبت کے ظاہر ہونے کے وقت روتا، چیختا سر پیٹتا ہے۔آخر بہت سا بخار نکال کر جوش تھم جاتا ہے اور انتہا تک پہنچ کر پیچھے بہتا ہے۔پس یہ طبعی حرکت ہے۔اخلاق سے اس کو کچھ تعلق نہیں بلکہ اس کے متعلق خُلق یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے ہاتھ سے جاتی رہے تو اس چیز کو خدا تعالیٰ کی امانت سمجھ کر کوئی شکایت منہ پر نہ لاوے اور یہ کہے کہ خدا کا تھا خدا نے لے لیا اور ہم اس کی رضا کے ساتھ راضی ہیں۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی تو مصائب اور ابتلاؤں کی زندگی ہوتی ہے اور آپ کے اہل بیت اور صحابہ کی تربیت اور سلوک روحانی کے منازل انہیں کٹھن اور پر خار وادیوں میں سے گزر کر طے ہوتی ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان تمام مرحلوں سے گزرنا پڑا اور کبھی اور کسی مرحلہ پر آپ کے پائے ثبات و استقلال کو جنبش نہ ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اعلان دعوئی مسیحیت کے ساتھ ایک طوفان مخالفت بر پا ہوا۔دہلی ، لا ہور ، امرتسر جیسے شہروں میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہاں گئے تو کس قدر شرارت اور شوخی کے گندے نمونے دکھائے گئے مگر اس مخالفت میں کبھی آپ کو گھبراہٹ اور پریشانی نہ ہوئی۔اس مخالفت کے طوفان میں اموات اولا د اور اعزا کے بعض ایسے واقعات پیش آئے جہاں بڑے بڑے قومی حوصلہ انسان بھی ٹھو کر کھا جاتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی نے