سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 46 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 46

46 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کو سرسید کے ارادتمند آج تک ان کے نام کے ساتھ لکھتے چلے آئے ہیں۔سر کار کمپنی نے بھی بغرض تالیف قلوب با تباع شاہانِ مغلیہ والیان ٹونک کو امیر الدولہ اور ان کے بیٹے کو وز یر الدولہ کا خطاب دیا تھا۔اس داستان باستان کو طول دینے سے خاکسار کی غرض صرف یہ ہے کہ شہنشاہ فرخ سیر کا منشور جو غفران مآب میرزا فیض محمد خان صاحب طاب اللہ شاہ کے نام ہے۔جس میں ان کو عضد الدولہ کے خطاب سے مخاطب کیا گیا ہے وہ والیان اودھ شجاع الدولہ اور آصف الدولہ اور والیان ریاست ٹونک کے خطابات امیر الدولہ و وزیر الدولہ اور نواب بنگالہ سراج الدولہ کے خطاب سے اور سرسید کے خطاب جواد الدولہ سے زیادہ قدیم اور زیادہ وقیع ہے کیونکہ فرخ سیر شاہنشاہ ہندوستان تھا۔اس کے بیٹے محمد شاہ کے بعد سلاطین مغلیہ شاہ عالم ثانی واکبر شاہ ثانی نام کے بادشاہ رہ گئے تھے۔خطاب دینے والے بادشاہوں کے لحاظ سے غفران مآب کا خطاب ایک ذی شان شہنشاہ کی طرف سے ہے۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اُم المؤمنین کے خاندان کے حالات پہلو بہ پہلو چلتے ہیں۔ایک خاندان سمر قند ( بخارا) سے آیا تو دوسرا خاندان بھی بخارا کے کسی دوسرے حصے سے آیا۔ایک دہلی میں بادشاہ کی خواہش کے مطابق آباد ہوا مگر عملی طور پر دہلی سے دور رہا۔تو دوسرا دہلی سے ویسے ہی دور جا کر مقیم ہو گیا۔ایک خاندان نے اولیاء پیدا کئے اور بالآ خرائم المؤمنین جیسی عصر حاضر کی سب سے بڑی باخدا خاتون پیدا کی تو دوسرے خاندان نے اس زمانہ کے راستباز اور پاکباز حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود کو پیدا کیا اور بالآ خر نئی اور پرانی پیشگوئیوں کے مطابق خدا تعالیٰ نے ان دونوں خاندانوں کو ایک جگہ پر جمع کر دیا جس کی تفصیل اپنی جگہ پر آسکے گی۔یہ حیرت کا مقام ہے۔کسی انسان کے اختیار میں نہ تھا کہ وہ اس طرح دو الگ الگ خاندانوں کو ایک دور دراز ملک سے لا کر ہندوستان میں جمع کر دے اور پھر دونوں کو مختلف حالات میں سے گزار کر ایک کر دے تا کہ پرانے اور نئے نوشتے پورے ہوں۔یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کہ ایک طرف تو خواجہ محمد ناصر صاحب کو بتلایا جاتا ہے کہ : یہ روشنی مسیح موعود کے نور میں گم ہو جائے گی۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس رشتہ کی تحریک کی گئی اور اس تحریک کے متعلق