سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 512
512 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پر جو کلام وقتاً فوقتاً نازل ہوا اس میں سیدہ مدوحہ کے متعلق جو ذ کر آیا ہے میں اسے بھی یکجائی طور پر درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں اور اس کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے بیان کو درج کر دیا گیا ہے۔( محمود احمد عرفانی ) شادی سے قبل کی وحی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حضرت مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد صاحب مرحوم کی پیدائش کے بعد ایک لمبازمانہ گویا تجرد کا زمانہ گزرا ہے آپ اپنے اوقات کو عبادت اور فکرِ دین میں گزارتے تھے کہ ۱۸۸۱ء میں آپ پر دوسری شادی اور اس کے ثمرات کے متعلق وحی کا آغاز ہوا۔عرصہ تخمیناً اٹھارہ برس کا ہوا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر چند آدمیوں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اس بات کی خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَسِيْنٍ یعنی ہم تجھے ایک حسین لڑکے کے عطا کرنے کی خوشخبری دیتے ہیں۔میں نے یہ الہام ایک شخص حافظ نوراحمد امرتسری کو سنایا۔جواب تک زندہ ہے اور باعث میرے دعویٰ مسیحیت کے مخالفوں میں سے ہے اور نیز یہی الہام شیخ حامد علی کو جو میرے پاس رہتا تھا سنایا اور دو ہندوؤں کو جو آمد ورفت رکھتے تھے۔یعنی شرمیت اور ملا وامل ساکنان قادیان کو بھی سنایا اور لوگوں نے اس الہام سے تعجب کیا۔کیونکہ میری پہلی بیوی کو عرصہ ہیں سال سے اولاد ہونی موقوف ہو چکی تھی اور دوسری کوئی بیوی نہ تھی۔لیکن حافظ نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ لڑکا دے۔اس سے قریباً تین برس کے بعد دہلی۔میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا بھی دیا اور تین اور عطا کئے ، أُشُكُر نِعْمَتِي رَئِيتَ خَدِيُجتِي : ۲ ترجمہ۔میر اشکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا۔یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس رشتہ کی طرف تھی۔جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے۔جیسا کہ اس جگہ۔۔