سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 478
478 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی خدمت میں دعا کیلئے خط لکھا اور میری لڑکی زیب النساء بیگم کو دیا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں لے جاؤ۔وہ یہ رقعہ لے کر گئی تو اماں جان مغرب کی نماز کے بعد اپنے صحن میں ٹہل رہی تھیں۔آپ نے لڑکی کو اس طرح گھبراہٹ میں جاتے ہوئے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ کہاں جارہی ہو۔لڑکی نے عرض کیا کہ اماں جان میری اماں جی کی جس آنکھ کا آپریشن ہوا تھا اس میں شدید در داٹھا ہے اور نظر بھی کچھ نہیں آتا۔آپ نے اُسی وقت آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر دعا کی کہ یا اللہ بچوں کی ماں ہے اس کی نظر کو کچھ تکلیف نہ ہو اور آنکھ کو بہت جلد اچھا کر دے۔ان کی خادمات سے مجھے معلوم ہوا کہ اماں جان رات کو بھی میرے لئے بہت دعائیں کرتی رہیں۔میری آنکھ کے اچھا ہونے کی بظاہر کوئی امید نہ تھی لیکن حضرت اُم المؤمنین کی دعاؤں کی برکت سے پندرہ دن کے اندر اندر بالکل صاف ہو گئی اور پانچ سال کا عرصہ ہو چکا ہے ابھی تک اچھی ہے۔میرے لڑکے عزیز محمداحمد کو ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے سندھ بھیجا گیا تو گھر سے بہت دور ہونے کی وجہ سے اور ساتھ ہی کوئی احمدی دوست نہ ملنے کی وجہ سے اس کی طبیعت بہت ہی پریشان رہتی تھی۔میں نے حضرت امیر المومنین کی خدمت میں خط لکھا اور درخواست کی کہ اسے وہاں سے بلوا کر کہیں اور داخل کروا دیا جائے۔حضور نے فرمایا نہیں اس کو سندھ میں ہی پڑھوانا ہے اسے وہیں رہنے دیا جائے۔اس پر میں نے حضرت اُم المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ محمد احمد کے لئے دعا فرما ئیں کیونکہ اس کا دل وہاں پر نہیں لگتا اور سخت ہی پریشانی کے خط لکھتا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا انشاء اللہ دل لگ جائے گا تم گھبراؤ نہیں۔آپ کی دعاؤں کی برکت سے اس کا دل بھی وہاں پر لگ گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اپنی تعلیم کومکمل کر کے کامیاب و کامران واپس لوٹا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملا زمت حاصل کرنے کی مشکل در پیش ہوئی۔نہ سندھ میں ملتی تھی اور نہ ہی پنجاب میں۔میں بار بار اماں جان کی خدمت میں عرض کرتی کہ دعا فرمائیں اس کی روزی کا کوئی بہترین انتظام فرمائے۔فرمانے لگیں کہ اسے خدا تعالیٰ کو ابھی خاندان اور سلسلہ کی خدمت کا موقعہ دینا ہے۔اس وقت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ امتہ الحمید ( حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی صاحبزادی ) کو لے کر شملہ جا رہی ہیں تم اسے ان کے ساتھ بھیج دو۔میں نے اسی وقت آ کر ڈاکٹر صاحب سے ذکر کیا انہوں نے اسے فوراً ہی تیار کر دیا اور یہ اسی دن بیگم صاحبہ کے ساتھ شملہ چل دیا۔ابھی ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ