سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 475 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 475

475 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ آتی تھی۔مجھے اس کا علم نہ تھا اور میں نے کسی صاحبزادے کی معرفت حضرت سیدہ کو بیت الدعا میں جانے کے لئے عرض کی۔حضرت سیدہ بوجہ علالت طبع اٹھ نہ سکتی تھیں۔اس لئے اسی چار پائی پر ہی لیٹے ہوئے کپڑوں سے خادماؤں سے پردہ کرایا اور اس عاجز کو از راہ شفقت اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی جب یہ عاجز وہاں سے گزرا اور حالات سے آگاہی ہوئی تو سخت ندامت ہوئی۔میں نے اس تکلیف دہی پر معذرت کی کہ مجھے علم نہ تھا۔تو حضور پُر نور حضرت سیدہ اُم المؤمنين (مَتَعْنَا اللَّهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا) نے کمال شفقت اور غریب نوازی سے فرمایا۔اچھا ہوا آپ اس وقت آگئے۔ہمارے لئے بھی دعا کرنا۔“ اللہ اللہ کیا ہی عجب غریب نوازی ، شفقت، رحمت اور دلجوئی ہے کہ مجھ سے بدترین خلائق نہایت گندے اور سخت گناہ گار کو فرمایا جاتا ہے کہ ہمارے لئے بھی دعا کرنا۔حالانکہ آپ ہی کی شان اقدس میں اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت احمد نبی اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کو بذریعہ وحی فرماتا ہے۔أشكر نعمتِی رَائِیتَ خَدیجتی اور ایک دوسری وحی الہی میں فرمایا۔اِنِّی معک و مع اهلك هذه - (۹) اس عاجز کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ جبکہ میرے تین بیٹے تھے اور چوتھا ابھی پیدا نہ ہوا تھا۔حضرت سیدہ ام المؤمنین نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے چار بیٹے ہیں نا۔میں نے عرض کی کہ میرے تو تین بیٹے ہیں۔حضرت سیدہ نے باصرار فرمایا نہیں چار ہیں۔تب میں نے عرض کی کہ میرے تو تین ہی بیٹے ہیں مگر حضرت سیدہ نے پھر بھی فرمایا۔نہیں تمہارے چار بیٹے ہیں۔اس پر ایک اور صاحبہ نے جو ہماری ہمسائی تھی میری تائید میں عرض کی کہ اس کے تین ہی بیٹے ہیں۔پھر حضرت ام المؤمنین خاموش ہو گئیں۔عرصہ قریباً ایک سال کے بعد میرے ہاں چوتھا بیٹا پیدا ہوا تو حضرت سیدہ نے خود بخو دفرمایا کہ اب بتاؤ تمہارے چار بیٹے ہیں یا نہیں۔میں نے عرض کی کہ ہاں اب تو چار ہی ہیں تو فرمایا کہ اس وقت بھی مجھے یہ چا رہی معلوم ہوئے تھے۔اس کے بعد مجھ سے چاروں بیٹوں کے نام دریافت فرمائے تو میں نے عرض کی کہ غلام احمد، بشیر احمد منیر احمد اور خلیل احمد ہیں تو فرمایا کہ تم نے سب ہمارے خاندان کے نام رکھے ہوئے ہیں اور پھر از راہ غریب نوازی ان سب کے لئے خود ہی دعا فرمائی۔اس وقت ایک اور خاتون نے عرض کی کہ حضرت اُم المؤمنین میرے بچوں کے لئے بھی دعا فرماویں تو فرمایا کہ اس وقت تو ان بچوں کیلئے دعا کی توفیق ملی ہے۔پھر کسی وقت تمہارے بچوں کے لئے بھی توفیق ملنے پر دعا کی