سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 474
474 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ بعد گرمی کی وجہ سے پیاس لگی تو میں نے ایک خادمہ کو کان میں کہا کہ مجھے پانی پلائیں۔خادمہ اٹھ کر جانے لگی تو حضرت سیدہ نے بکمال شفقت و رحمت فرمایا کہ غسل خانہ میں سے ہمارے گلاس اور ہماری صراحی میں سے انہیں پانی لا کر دو۔اللہ اللہ میں نہیں جانتا کہ اس از حد غریب نوازی کو کن الفاظ میں بیان کروں۔یقیناً آقا کا اپنے حقیر اور ناچیز خادموں سے ایسا پر شفقت اور رحیمانہ سلوک اس زمانہ میں اور کہیں نظر نہیں آتا۔بے شک یہ حد درجہ کی شفقت اپنی مثال نہیں رکھتی۔۷۔میری اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت سیّدہ ام المؤمنین کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی تو اس وقت حضرت سیدہ کھانا کھا رہی تھیں۔حضور نے از راہ شفقت مجھے فرمایا کہ آؤ ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔میں نے مارے شرم کے اپنی حیثیت کو دیکھتے ہوئے عذر کیا۔مگر حضرت سیدہ بار بار اصرار کرتی رہیں کہ ضرور آؤ اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔مگر میں نے بھی باوجود اصرار کے انکار کیا۔آخر اس رحمت اور شفقت اور غریب نوازی کے مجسمہ نے اپنی پلیٹ میں سے نصف کے قریب سالن ( قیمہ اور ماش کی دال ) مجھے دوسری پلیٹ میں ڈال کر دیا اور کہا کہ لواب تو کھاؤ جو میں نے بموجب ارشاد تبر کا کھایا۔روٹی بھی حضور نے اپنے پاس سے ہی دی تھی۔میں پھر عرض کرتا ہوں کہ کیا ایسے عظیم الشان آقا کی ایک نہایت حقیر غلام کے ساتھ اس قدر از حد شفقت اور غریب نوازی کا مظاہرہ اور کہیں دیکھنے میں آیا ہے؟ یقینا یہ طریق شفقت بے مثال ہے جو یہ مادر مہر بان ہم عاجزوں پر کرتی ہیں۔۔اس عاجز کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ جن دنوں اس عاجز کے خلاف دشمنوں نے مقدمات بنا دیئے تھے۔ان ایام میں میں اکثر حضرت سیّدہ ام المؤمنین کی خدمت بابرکت میں حاضر ہو کر دعاؤں کے لئے عرض کیا کرتی تھی اور خود بھی حضرت سیدہ کی اجازت سے بیت الدعا میں دعائیں کرتی تھی۔حضرت سیدہ نے خادماؤں کو حکم دے دیا تھا۔کہ جب کبھی میں بیت الدعا میں دعائیں کرنے کے لئے آؤں تو خواہ حضرت سیدہ موجود ہوں یا نہ ہوں۔میرے لئے بیت الدعا کھول دیا کریں۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا رہا۔یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ ان دنوں میں یہ عاجز رخصت لے کر دارالامان میں آیا اور یہ عاجز بھی حضرت سیدہ سے اجازت لیکر بیت الدعا میں دعائیں کرتا رہا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت سیدہ کی طبیعت علیل تھی اور حضور چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔بیت الدعا کو جاتے وقت وہ چار پائی راستے میں