سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 443
443 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور توکل تام پیدا ہو گیا اور آپ کے ہر قول و فعل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اس سے محبت اور اس کی کارسازی پر اعتماد اور بھروسہ نظر آتا ہے اور آپ اپنی زندگی کے ہر شغل میں ذکر الہی اور دعاؤں میں مصروف رہتی ہیں اور جس طرح آنحضرت ﷺ کے لیل و نہار کے اعمال سے پایا جاتا ہے کہ آپ اٹھتے بیٹھتے اور زندگی کی ہر حالت میں دعاؤں پر عملاً زور دیتے۔حضرت اُم المؤمنین کی بھی یہی حالت ہے۔مکرمی میاں غلام محمد اختر صاحب اپنے تاثرات میں ذکر کرتے ہیں کہ : ” حضرت ام المؤمنین کی ایک پاکیزہ عادت یہ ہے کہ سواری پر جاتے ہوئے آپ ہمیشہ دعا فرماتی رہتی ہیں اور بسہ بسم الله مجريها و مرسها پڑھتی ہیں اس خادم کو جب کبھی اس قسم کا کوئی موقعہ میسر آیا تو میں نے ہمیشہ اس کا پابند پایا۔“ غور کرو دنیا داروں کی عادت ہے کہ وہ جب کسی سواری میں سوار ہوں تو ان میں تعلی اور نخوت پیدا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو ایک بلند طبقہ کی مخلوق سمجھتے ہیں اور خدا سے بعد اور دوری پیدا کر لیتے ہیں۔مگر حضرت اُم المؤمنین خدا تعالیٰ کے اس فضل اور نعمت پر کہ اس نے ہم پر کیا انعام فرمایا ہے۔شکر گزاری کے جذبات سے بھر جاتی ہیں اور اس کے حضور میں دعاؤں میں مصروف ہو جاتی ہیں کہ اس سفر وہ چھوٹا ہو یا بڑا میں بخیر و عافیت پہنچا نا محض اس کے فضل پر موقوف ہے اور وہی ہماری زندگی کا سہارا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ پر کرم حضرت ام المؤمنین عصر سعادت یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خدام کا خاص طور پر خیال رکھتی ہیں اور حقیقت میں وہ آپ کی روحانی اولاد ہیں۔پہلے پہل ان میں سے اکثر کو آپ اچھی طرح جانتی ہیں اور جب کوئی ان میں سے حاضر ہوتا تو آپ اس کے گھر کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے متعلق بھی دریافت فرماتی ہیں اور یہ جزئیات کے متعلق سوالات ان کے قلوب میں حضرت ممدوحہ کے لئے ارادت اور عقیدت کے جذبات کو تیز کر دیتے ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ حضرت اُم المؤمنین ہم کو اپنے خاندان کا ایک فرد بجھتی ہیں اور ہے بھی یونہی اور اگر قادیان سے باہر کسی جگہ تشریف لے جاتی ہیں تو صحابہ کے گھروں میں ضرور ان کی خیریت معلوم کرنے کیلئے تشریف لے جاتی ہیں۔حضرت اُم المؤمنین