سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 426 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 426

426 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ جس کو نیا پنڈ کہتے ہیں محمود عرفانی ) جب اس گاؤں کی مستورات کو معلوم ہوا تو باہر استقبال کو نکل آئیں اور گھر جانے کے لئے عرض کیا۔آپ نے ان کی دلداری کے لئے قبول فرما یا مگر فرمایا کہ ”پہلے مسجد میں جا کر نماز پڑھوں گی پھر تمہارے گھر چلوں گی، مسجد کے آگے سے پانی کی نالی جاری تھی وہاں ہم نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔پھر ان کے گھر تشریف لے گئیں انہوں نے مکی کے دانے بھون کر شکر ملا کر پیش کئے۔آپ نے سب کو بانٹ دیئے۔چلتی دفعہ انہوں نے کچھ ساگ اور گڑ پیش کیا آپ نے جزاک اللہ فرماتے ہوئے قبول کیا اور آپ نے اپنے ہاتھ میں لیا اور دریافت کیا کہ تمہارے ہاں کماد ( گنا ) ہوتا ہے میں نے عرض کیا کہ پہاڑی اور بارانی ملک ہے۔اس پر آپ نے وہ تحفہ مجھے عطا کر دیا ہے۔(نوٹ) یہ باتیں بظاہر نہایت معمولی ہیں۔یہ گاؤں حضرت ہی کی رعایا کا ہے اور حضرت کے آباد کا ر رہتے ہیں۔قادیان ہی میں داخل ہے۔زمینداروں کے گھر کا نقشہ اور وہ بھی آج سے قریباً پچاس برس پیشتر کا ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے۔مگر آپ نے ان مستورات کی خوشی کو مقدم فرمایا اور اس کے گھر جانے کی درخواست کو رد نہ فرمایا۔مگر سب سے پہلا کام فریضہ نماز کا ادا کرنا ضروری سمجھا۔قیاس یہ چاہتا ہے کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگا۔پنجاب کے رواج کے لحاظ سے شام کے قریب بھنے ہوئے دانوں کا ناشتہ ہوا کرتا تھا۔پھر انہوں نے اپنے دیہاتی طرز معاشرت کے رُو سے ساگ اور گڑ کا تحفہ پیش کیا۔آپ کے ساتھ خادمین تھیں آپ نے ان کے جذبات کا احترام کیا اور اس ہدیہ کو سونے چاندی کے سکوں سے بھی قیمتی سمجھا کہ وہ ایک اخلاص مند دل کی عقیدت کا اظہار تھا اس لئے خود اپنے ہاتھ سے لیا اور پھر ایک مخلصہ کو بطور تحفہ اس لئے دیا کہ ان کے ملک میں یہ باہر سے جانے والی سوغات تھی۔محمود عرفانی اسی سلسلہ میں سردار نی صاحب لکھتی ہیں کہ میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ جب کوئی تحفہ پیش کرتا ہے تو آپ ایسے انداز سے اس کو قبول فرماتی ہیں کہ پیش کرنے والے کا دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ایک دفعہ میں نے کشیدہ کا بہوجن خاص طور پر حضرت اُم المؤمنین کے لئے سلایا تھا۔میں نے پیش کیا تو آپ نے فوراً اسی وقت پہن لیا۔( نوٹ ) ہر ملک اور قوم کا لباس اور ان کی پسندیدہ اشیاء الگ ہوتی ہیں اور دہلی اور ڈیرہ غازی خاں کے لباس میں زمین آسمان کا فرق ہے مگر حضرت اُم المؤمنین نے اس اخلاص و محبت کی قدر کی اور