سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 420 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 420

420 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ رشتہ سوچ کر کرو (۱) میری لڑکی امتہ الرشید کے رشتہ کے بارے میں میرے دریافت کرنے پر حضرت اماں جان نے نہایت پاک جذبات کا اظہار فرمایا۔خلوص اور محبت سے فرمانے لگیں۔لڑ کی سنو، پہلے یہ دیکھو کہ لڑکا نیک، دیندار ہے یا نہیں؟ اس کے افعال اعمال سے دیندار بچے احمدی ہونے کا پتہ لگتا ہے یا نہیں ؟ اگر لڑ کا نیک سچا احمدی اور مخلص ہے اور تمہاری و خاندان کی طبیعت سے ملتا جلتا ہے تو بس اللہ کا نام لیکر رشتہ طے کر دو۔باقی دوری وغیرہ۔سوال ملازمت ، یہ سب اللہ تعالیٰ کے بس کی باتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں کہ وہ ایسے اسباب کر دے گا کہ اتنی دور دراز ہوتے ہوئے بھی تمہاری بچی تمہارے نزدیک معلوم ہو گی۔بیٹی۔دنیا میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ہی وطن میں بیٹیاں بیا ہی جاتی ہیں لیکن حالات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ برسوں آنے جانے کا اتفاق نہیں ہوتا۔بعض دفعہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ باوجود دُور ہونے کے ہمیشہ ملنے ملانے کے اسباب ہو جاتے ہیں۔بہر کیف احمدیوں کی لڑکیوں نے اکناف عالم میں پہنچنا ہے تو بھلا ( حیدر آباد دکن سے ) دہلی کتنی دور۔یہ تو میرا میکہ ہے ( یعنی دہلی جہاں پر لڑ کا ملازم ہے ) لڑکا میرے سسرال کے وطن کا مجھے اس رشتہ سے بڑی خوشی ہوئی۔میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی رشتہ با برکت کرے۔اللهم آمین (۲) مجھ ناچیز کوکئی مرتبہ حضرت اماں جان کی ذرہ نوازی نے بیت الدعا جیسی جگہ میں نماز پڑھنے اور لمبی لمبی دعائیں کرنے کا موقعہ عطا فرمایا۔الحمد لله تعالی علی ذالک (۳) حضرت اماں جان کی شفقت مادرانہ اور احسان عظیم کا سب سے بڑھ کر نا چیز کے نام ایک نوازش نامہ بھی ہے جس کو آج اکیس بائیس سال کا عرصہ ہوتا ہے۔ذیل میں عاجزہ حضرت اماں جان کے دست مبارک سے لکھے ہوئے سرفراز نامہ کو درج کرنے کی عزت وسعادت حاصل کرتی ہے۔