سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 355 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 355

355 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ہوں اور اعتبار نہیں آتا کہ یہ واقعہ سچ ہے۔دل کو یقین ہی نہیں آتا یا یہ کہو کہ دل یقین کرنا نہیں چاہتا۔مگر جو امر ہونا تھا اور خدا تعالیٰ کے ہاں سے مقدر تھا وہ ہوا۔اس میں کسی انسان اور فرشتے کا دخل نہیں۔آج تک نہ کوئی انسان موت سے بچا نہ بچے گا۔تمام پیمبر، انبیاء، اولیاء، بزرگ، پیر، صاحب کرامات خدا کے پیارے۔غرض بڑے بڑے رتبے والے حتی کہ سب کے سردار حضرت محمد مصطفی یہ تک نے چند روزہ زندگی بسر کر کے اس جہان سے رحلت کی۔ہزاروں روئے، لاکھوں نے اپنی جان ان پر تصدق کرنی چاہی۔نہایت تضرع اور بچے دل سے ہر شخص نے دعا کی کہ یہ پیالہ ٹل جائے مگر نہ مل سکا اور آخر سب کو پینا ہی پڑا۔خدا کے نبی ، رسول اللہ کے پیارے دوست ہوتے ہیں وہ ان کو کچھ مدت کیلئے دنیا میں ہدایت کے لئے بھیجتا ہے جب وہ اپنا کام کر چکتے ہیں تو پھر دنیا میں ان کی ضرورت نہیں رہتی۔جب تک وہ یہاں رہتے ہیں لوگ ان کے مخالف اور درپے آزاد رہتے ہیں۔ہر طرح کے دکھ دیتے اور سب وشتم کرتے ہیں۔غرض ہرا نداز اور ہر طور سے ان کو تکلیف اور ایذا دینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ بھی جب ان کا کام ہو چکتا ہے تو فورا ہی ان کو اپنے پاس دائمی آرام اور ہمیشہ کی راحت میں بلا لیتا ہے اور نہیں چاہتا کہ ضرورت سے زیادہ وہ دنیا میں رہ کر تکلیف اٹھاویں۔غرض انبیاء اور اولیاء کی موت ایسی نہیں ہوتی کہ مرتے وقت ان کو کوئی کاوش یا ہم وحزن ہو بلکہ وہ ان کو دنیا سے بشارت اور دائمی برکت اور رحمت کے ساتھ لے جاتی ہے اور وہ لوگ جس طرح ایک بھوکا بچہ دیر کے بعد اپنی ماں کی گود میں ہمک کر جاتا ہے اسی طرح اپنے رب سے وصال پاتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے اس کے طرح طرح کے افضال اور الطاف کے مورد بنتے ہیں۔پس موت کا وارد ہونا اس شخص کے لئے تو موجب فکر و تشویش ہو سکتا ہے جسے اگلے جہاں میں اپنے اعمال کا فکر ہو مگر جو شخص معصوم خدا کی درگاہ میں واپس جاتا ہے۔نہیں۔بلکہ اسکا عزیز مہمان اور پیارا دوست بن کر جاتا ہے تو اس کے انتقال پر ہم کو رشک کرنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ جس طرح یہ مرنے والا تیرا مقرب اور پسندیدہ درگاہ تھا۔اسی طرح تو ہم کو بھی توفیق دے کہ تیرے فضل سے ہم بھی جب مریں تو تیرے نیک اور پیارے بندے ہو کر مریں اور آخرت میں ہم اس کے ساتھ ایسے ہی وابستہ رہیں جس طرح دنیا میں تھے۔دوسری بات جو ہم کو اس واقعہ پر پیش آئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا صبر اور ہماری استقامت اس ابتلاء کے موقعہ پر آزمانی چاہتا ہے۔ایک ہمارا سب سے پیار اس جہان سے رحلت فرما ہوا۔اگر