سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 263 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 263

263 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ میں گریں گے کہ ہمارے خدا!! ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔آج تم پر کوئی سرزنش نہیں خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔میں نے ارادہ کیا کہ ایک اپنا خلیفہ زمین پر مقرر کروں تو میں نے آدم کو پیدا کیا۔جو نجی الاسرار ہے۔ہم نے ایسے دن اس کو پیدا کیا جو وعدہ کا دن تھا“۔۵۵ مذکورہ بالا وحی الہی دسمبر ۱۸۹۲ء کی ہے۔اس کے بعد جب ۲۰/ اپریل ۱۸۹۳ء کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پیدا ہوئے تو اسی تاریخ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار میں مندرجہ بالا پیشگوئی کے پورا ہونے کا اعلان فرمایا۔چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں : - ۲۰/ اپریل ۱۸۹۳ء سے چار مہینے پہلے صفحہ ۲۶۶ آئینہ کمالات اسلام میں بقید تاریخ شائع ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک اور بیٹے کا اس عاجز سے وعدہ کیا ہے جو عنقریب پیدا ہوگا۔سو آ ج ۲۰/ ۱اپریل ۱۸۹۳ء کو وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔۵۶ اس پیشگوئی میں قمر الانبیاء سے مراد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہیں۔علاوہ اس پیشگوئی کے قمر الانبیاء کے متعلق ۱۱۰ دسمبر ۱۸۹۲ء کو دوسری مرتبہ پیشگوئی فرمائی جو تذکرہ صفحہ ۲۱۵ پر موجود ہے اور تیسری مرتبہ تذکرہ صفحہ ۲۸۰ پر درج ہے۔حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۱۷ پر اس پیشگوئی کے پورا ہونے کو حضرت اقدس نے اپنا پینتیسواں نشان قرار دیا ہے۔چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں : پینتیسواں نشان یہ ہے کہ پہلا ٹرک محمود احمد پیدا ہونے کے بعد میرے گھر میں ایک اور لڑکا پیدا ہونے کی خدا نے مجھے بشارت دی اور اس کا اشتہار بھی لوگوں میں شائع کیا گیا چنانچہ دوسرا لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا“۔علاوہ ازیں مندرجہ ذیل رویا اور الہام میں بھی آپ کا ذکر ہے۔حضور نے ایک رویا میں دیکھا کہ: بشیر احمد کھڑا ہے وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا۔۵۷ اس رؤیا کے مطابق جنوری ۱۹۳۴ء میں ایک زبر دست زلزلہ علاقہ بہار (ہندوستان ) میں آیا اور اس نشان کے ظہور کی اشاعت کا شرف بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو ہی حاصل ہوا۔چنانچہ آپ نے ایک