سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 251
251 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ دی۔چنانچہ آپ ” حقانی تقریر میں فرماتے ہیں: ابتلاء جو اوائل حال میں انبیاء اور اولیاء پر نازل ہوتا ہے اور با وجود عزیز ہونے کے ذلت کی صورت میں ان کو ظاہر کرتا ہے اور باوجود مقبول ہونے کے کچھ مردود سا کر کے ان کو دکھاتا ہے۔یہ ابتلاء اس لئے نازل نہیں ہوتا کہ ان کو ذلیل اور خوار اور تباہ کرے یا صفحہ عالم سے ان کا نام ونشان مٹا دیوے۔کیونکہ یہ تو ہر گز ممکن ہی نہیں کہ خدا وند عز و جل اپنے پیار کرنے والوں سے دشمنی کرنے لگے اور اپنے سچے عاشقوں کو ذلت کے ساتھ وہ ہلاک کر ڈالے۔بلکہ حقیقت میں وہ ابتلاء کہ جو شیرئیر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولت کے بلند مینار تک پہنچا دے۔اور الہی معارف کے بار یک دقیقے ان کو سکھا دے۔یہی سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔زبور میں حضرت داؤد کی ابتدائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تضرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخر الرسل کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتهالات اسی قانونِ قدرت کی تصریح کرتے ہیں۔اگر یہ ابتلاء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیا ءان مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پاسکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے انہوں نے پالئے۔ابتلاء نے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کر دکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے بچے وفا دار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور ا کیلئے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مردوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی مرتبیا نہ عادت کو بہ یکبارگی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مور د غضب ہیں اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں۔بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا۔ایک کے ختم