سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 219 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 219

219 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ پر دیکھتے ہیں کہ مسلمان عورتیں اسلام کے صاف اور صریح حکم کی موجودگی میں کہ ایک سے زائد عورتوں سے شادی کی جاسکتی ہے۔سوت سے اس قسم کی عداوت کرتی ہیں کہ الامان ! والحفیظ !! لوگوں نے اس قسم کی بدمزگی کے قصے اور کہانیاں لکھ ڈالیں جن میں دو بیویوں والے خاوند کی ڈرگت کے نقشے کھینچے گئے۔اس طرح ان لوگوں نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرنے کی سعی باطل کی کہ اسلام کا یہ مسئلہ نا قابل عمل ، غیر مفید اور مضر ہے۔دراصل یہ بات عدم تربیت اور جہالت سے پیدا ہوئی۔ورنہ اگر سچا اور کامل ایمان کسی کے قلب میں پیدا ہو جائے تو پھر اس قسم کے لغو اور بودے وساوس اس کے اندر پیدا نہیں ہو سکتے۔اس زمانہ میں جبکہ اسلام کی ساری خوبیاں مفقود ہو چکی تھیں۔مسلمان بالکل مذہب کو چھوڑ چکے تھے۔ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایسا واقعہ بھی پیش آتا جس کے رونما ہونے سے یہ بات صاف ہو جاتی کہ مسلمان با خدا عورت سوت کے جھگڑے اور ناراضگی کو کچھ چیز نہیں خیال کرتی۔اصل چیز تو خدا اور اس کی رضا ہے۔ایک اور واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محمدی بیگم کے اپنے نکاح میں آنے کی پیشگوئی فرمائی تو حضرت اُم المؤمنین نے بار ہا اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کر دعائیں کیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی کتاب سیرت مسیح موعود علیہ السلام میں تحریر فرمایا ہے اور پھر حضرت عرفانی کبیر نے اپنی سیرت مسیح موعود حصہ سوم کے صفحہ ۳۷۴ میں بھی اس واقعہ کو درج کیا ہے: " کہ آپ نے بارہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ گومیری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے۔مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں اور ان سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت اور جھوٹ کا زوال و ابطال ہو۔“ ایک روز آپ دعا مانگ رہی تھیں، حضرت نے پوچھا آپ کیا دعا مانگتی ہیں؟ آپ نے یہ بات سنائی کہ یہ مانگ رہی ہوں حضرت نے فرمایا۔سوت کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے؟ آپ نے فرمایا۔کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس کا پاس ہے کہ آپ کے منہ کی نکلی ہوئی باتیں