سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 218
218 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اس کے کہ یہ جانتی تھیں کہ وہ سوت ہیں ان سے کوئی رنج، بغض یا نقار نہ رکھتی تھیں بلکہ کبھی کبھی ان سے مل بھی لیا کرتی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ان کو بھی کوئی روک اور ممانعت نہ تھی۔چنانچہ حضرت اُم المؤمنین کی روایت ہے کہ: ایک دفعہ میرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی۔میں ان کو دیکھنے کے لئے گئی۔واپس آ کر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ پھجے کی ماں بیمار ہے اور یہ یہ تکلیف ہے۔آپ خاموش رہے۔میں نے دوسری دفعہ کہا تو فرمایا۔میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آؤ۔مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارةً کنایہ مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام نہ آئے اپنی طرف سے کچھ مدد کروں سوئیں کر دیا کرتی تھیں۔“ ۲۱ اس روایت سے حضرت اُم المؤمنین کے قلب کی گہرائی پر ایک وسیع نظر پڑتی ہے گویا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسا صاف اور مصفا قلب دیا تھا جو ہر شخص کی محبت ، ہمدردی اور خیر خواہی سے لبریز تھا۔میرزافضل احمد صاحب کی والدہ کی بیماری کی اطلاع پا کر آپ ان کی عیادت کیلئے تشریف لے گئیں۔عورت کا کیریکٹر یہ ہے کہ وہ دنیا کی ہر چیز کی قربانی کر سکتی ہے۔مگر اس کے قلب میں سوت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔خواہ وہ مٹی کی ہی کیوں نہ ہو۔اس کی طبیعت میں سوت کے لئے کوئی لگاؤ نہیں ہوتا۔مگر حضرت اُم المؤمنین کا اپنی سوت کے پاس جانا اور ان کی عیادت کرنا اور نہ صرف عیادت کرنا بلکه بیماری کی تفصیل دریافت کرنی اور پھر اس حد تک اس معاملہ کوختم نہ کر دیا بلکہ ان کی تکلیف سے متاثر ہوئیں اور وہاں سے آکر حضرت اقدس کو ساری تکلیف بتلائی اور باوجود حضرت کی خاموشی کے پھر دوسری دفعہ توجہ دلا کر دوائی حاصل کر لی اور پھر دوبارہ جا کر ان کو دوائی دی۔میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ واقعہ اگر کسی اور کے گھر میں ہوتا خواہ حالات یہی ہوتے کہ پہلی بیوی نے اپنے حقوق چھوڑ دیئے ہوں۔مگر دوسری بیوی یقینا یہ کہتی کہ مجھے کیا اگر کل مرتی ہے تو آج ہی مرے۔پھر اس پر اکتفاء نہیں بلکہ فرماتی ہیں کہ وقتا فوقتا ان کی مدد بھی کر دیا کرتی تھی۔یہ پاک نمونہ ہے آپ کے اخلاق کریمانہ کا جو آپ نے اپنی ایک سوت کے متعلق دکھایا۔ہم عام