سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 205 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 205

205 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سُبْحَانَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى زَادَ مَجَدَكَ يَنْقَطِعُ آبَاؤُكَ وَيَبْدَأَمِنْكَ - ا ” سب پاکیاں خدا تعالیٰ کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے۔اس نے تیرے مسجد کو زیادہ کیا۔تیرے آباء کا نام اور ذکر منقطع ہو جائے گا۔یعنی بطور مستقل ان کا نام نہیں رہے گا اور خدا تجھ سے ابتداء شرف اور مسجد کا کرے گا۔“ اس وحی سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ پہلے خاندان کو ختم کر دے اور آپ کے وجود مبارک سے نئے خاندان کی بنیادر کھے۔اس نئے خاندان کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہو گی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر یک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کائی جائے گی اور وہ جلد لا ولد رہ کر ختم ہو جائے گی۔اگر وہ تو بہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا یہاں تک کہ وہ نابود ہو جائیں گے ان کا گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔لیکن اگر وہ رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔خدا تیری برکتیں ارد گرد پھیلائے گا اور ایک اُجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا اور ایک ڈراؤنا گھر برکتوں سے بھر دے گا۔تیری ذریت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے۔عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔‘۱۳ اس وحی کا یہ مطلب تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نئے خاندان کی بنیا د رکھنے کے لئے پرانے خاندان کو ختم کر دیا جائے گا اور نئے خاندان کی بنیاد رکھی جائے گی۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ جب کسی عظیم الشان قصر کی تعمیر مقصود ہوتی ہے تو تمام بوسیدہ عمارتوں کو گرا کر زمین کو صاف کر دیا جاتا ہے اور پرانی عمارت کی ایک اینٹ بھی نئی عمارت میں نہیں لگائی جاتی۔بالکل اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس نئے خاندان کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے خاندان کو ختم کر دیا جائے گا اور نئے خاندان کو بڑھایا جائے گا۔وہ کثرت سے ملکوں میں پھیل جائیں گے اور ان کو کبھی منقطع نہیں کیا جائے گا اور وہ آخری دنوں تک سرسبز