سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 194 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 194

194 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ ان عبارتوں سے مندرجہ ذیل امور خوب واضح ہوتے ہیں :۔نصرت جہاں بیگم کے ذریعے ایک خاندان بنے گا۔۲۔اس خاندان میں ایک آسمانی روح والالڑ کا ہوگا۔۳۔باقی اولا د بھی حضرت مسیح موعود کے مشن کو تمام دنیا میں پھیلا دے گی۔۴۔اس خاندان کے ذریعے تمام جہان کی مدد کی جائے گی۔یہ امور تھے جن کے لئے خدا تعالیٰ نے خود اپنی مرضی سے اپنے ہاتھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تعلق حضرت اُم المؤمنین سے جوڑا۔اس مقصد اور غرض کو دیکھ کر بآسانی یہ اندازہ لگ سکتا ہے کہ حضرت ام المؤمنین نصرت جہاں بیگم کس شان کی خاتون ہیں۔حضرت اُم المؤمنین کی پیدائش ۱۸۶۵ء میں آپ کی پیدائش حضرت میر ناصر نواب صاحب کے مشکوئے معلی میں حضرت نانی اماں سید بیگم صاحبہ کے بطن مبارک سے دہلی میں ہوئی۔حضرت میر صاحب عنفوان جوانی میں تھے۔اُن کے سر پر سے والد کا سایہ اُٹھ چکا تھا۔کئی قسم کے مشکلات تھے اور بیکاری کا زمانہ تھا۔حضرت ام المؤمنین کی پیدائش کی برکات جس طرح اہل اللہ کی پیدائش بہت سی برکات کا موجب ہوتی ہے۔اسی طرح حضرت ام المؤمنین کی پیدائش بھی بہت سی برکات لے کر آئی۔تنگی فراخی سے بدل گئی۔ناکامیاں کامیابیوں میں تبدیل ہو گئیں۔چنانچہ غدر کا یہ کٹا ہوا گھرانہ پھر نسیم رحمت کی آماجگاہ بن گیا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی بریکاری جاتی رہی اور ان کو کام مل گیا۔ناصری گنج کی جائیداد جس کے حصول کے لئے جناب خواجہ میر ناصرا میر صاحب حضرت اُم المؤمنین کے دادا ناصری گنج کی طرف گئے تھے اور اسے حاصل کئے بغیر فوت ہو گئے تھے اس جائیداد کا ایک حصہ خود بخود بغیر کسی سعی کے مل گیا۔اس طرح برکات سماوی کا دروازہ کھل گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مناسبت اس سلسلہ میں حضرت اُم المؤمنین کے خاندان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے