سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 193
193 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سوچونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیا دحمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہوگا۔اس لئے اس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لاوے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے تخم ریزی ہوئی ہے دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلا دے۔اس طرح اس پیشگوئی میں مندرجہ ذیل امور پوشیدہ تھے : اوّل : خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل سے حمایت اسلام کی بڑی بنیاد ڈالے گا۔دوم: ایک خاص شخص پیدا ہوگا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھے گا۔سوم: اللہ تعالیٰ ایسی اولاد پیدا کرے گا جن کا یہ کام ہو گا کہ وہ ان نوروں کو زیادہ سے زیادہ دنیا میں پھیلا وے جن کی تخمریزی حضرت مسیح موعود نے فرمائی۔ان تینوں باتوں کو پورا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے یہ پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں لائے۔سوچو! اور غور کرو!! کہ کیا یہ انسانی کام تھا؟ خدا تعالیٰ کی پسندیدگی کیا انسانی تصرف کے ماتحت ہو سکتی ہے؟ کیا کوئی اپنی اولاد کے متعلق اس قسم کے دعوے کر سکتا ہے؟ کہ ایک لڑکا خاص امتیاز کا مالک ہوگا باقی کی ساری اولا داس مقصد کی حمایت اور اشاعت میں ہمہ تن لگ جائے گی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لے کر آئے۔کون قبل از وقت کہہ سکتا ہے کہ اس کے اولا د ہوگی اور پھر اگر ہوگی تو وہ اس مقصد کے پورا کرنے والی ہوگی جس کے لئے وہ مامور ہوا ہے۔یہ سب کچھ سوائے منشاء الہی کے نہیں ہوسکتا۔اسی پر بس نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تعلق پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس طرح سادات کی دادی کا نام شہر بانو تھا۔اُسی طرح میری یہ بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے تمام جہان کی مدد کے لئے میرے آئندہ خاندان کی بنیاد ڈالی یہ خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ کبھی ناموں میں بھی پیشگوئی مخفی ہوتی ہے“۔۲