سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 165 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 165

165 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اعتراض کئے۔اسی سلسلہ میں انہوں نے جماعت کے لوگوں کی ذہنیت کو بدلنے کیلئے اُلو اور پیر پرست کے خطابات وضع کئے تھے۔یہ ایسے ہی خطابات تھے جیسے ٹوڈی بچہ، دقیانوسی غدار وغیرہ خطابات وضع کئے گئے تھے تا کہ لوگ ان الفاظ کی تاثیر اور شناخت سے متاثر ہو کر دامن خلافت سے سچائی سے ، اہلِ بیت کی محبت سے الگ ہو جائیں مگر خدائی قلعہ میں رہنے والی جماعت اس قسم کے سحر سامری سے متاثر نہیں ہوا کرتی۔وہ ایک بنیان مرصوص کی طرح آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت میر صاحب خلافت ثانیہ میں حضرت میر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے خلافت ثانیہ کا زمانہ بھی دکھایا۔انہوں نے جیسی اطاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں دکھائی۔جس فرمانبرداری کا ثبوت خلافتِ اولیٰ میں دیا اسی اطاعت اور فرمانبرداری کا ثبوت خلافتِ ثانیہ میں دیا۔ابتدائے خلافت ثانیہ میں وہ دبا ہوا فتنہ کھڑا ہو گیا۔ایک فریق نے جو ان لوگوں سے متاثر تھا اس بغاوت میں حصہ لیا اور وہ خلافت کے مقابل میں دشمن بن کر کھڑے ہو گئے۔حضرت میر صاحب کو اس فتنہ کو دبانے کی بھی توفیق ملی۔میر صاحب کی زندگی کے چند اور واقعات میں نے لکھا ہے کہ حضرت میر صاحب قبلہ کی طبیعت میں سختی تھی۔قرآن کریم نے مومنوں کی صفت یہ بیان کی ہے۔أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ان میں ایک سختی بھی ہوتی ہے۔جوختی غیرت دینی کے ماتحت ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل تعریف ہوتی ہے۔حضرت میر صاحب کی تختی بھی غیرت دینی کے ماتحت ہی تھی اور جن لوگوں کو وہ نیک دل مومن یقین کرتے تھے ان کی ہر خدمت کرنے کے لئے تیار تھے۔بعض اوقات نانا جان عرف عام کے لحاظ سے نہایت ہی غریب طبقہ کے لوگوں کو مگر جن کے سینے نور ایمان سے معمور ہوتے تھے ساتھ ساتھ لئے پھرتے۔ان کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے۔محبت کی باتیں کرتے اور اپنے ساتھ بڑے بڑے آدمیوں کی مجلسوں میں لے جاتے تھے۔یہ شان ان کی بے نفسی ، محبت صلحاء کی ایک کھلی کھلی دلیل ہے۔وہ غریب لوگوں کی حالت پر رقیق القلب بھی تھے۔ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے۔وہ جب کسی