سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 164 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 164

164 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے خلاف یکساں چلی اور کوئی بزرگ اور نیک نفس ان کی فتنہ سازی سے بچ نہ سکا۔پس حضرت میر صاحب کی مخالفت کا محوری نقطہ یہ تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رشتہ دار تھے۔وہ ان لوگوں کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے تھے۔وہ ان سے مرعوب نہ ہوتے تھے۔قوم ان کی بات سنتی تھی اور ان کا اثر قوم میں تھا۔حتی کہ خلیفہ وقت بھی ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔یہ تھا اصل جرم اور یہی چیز تھی جس سے ان کو ڈرا تا تھا اور ان کو خیال پیدا ہوتا تھا کہ یہ چیز ہمارے لئے کسی وقت ایک پہاڑ بن جائے گی اور ان کا خوف بھی سچا تھا۔بالآ خر سچائی کا یہ پہاڑ ان کے راستہ میں کھڑا ہوکر رہا۔(۵۴) قوم کو الو بنا رکھا ہے۔پیر پرستی کا زور بڑھ رہا ہے۔یہ الفاظ سلسلہ کے افراد کی کھلی کھلی تو ہین تھے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ قوموں کی سائیکالوجی جاننے والے جانتے ہیں کہ الفاظ کے پیچھے بھی ایک قوت ہوتی ہے۔حکومتیں ، اصطلاحات اور الفاظ کی طاقت سے کی جاتی ہیں۔اس جنگ میں وکٹری ایک لفظ ہے یا ایک اصطلاح جس کا کتنا گہرا اثر ہے۔غذاری ایک لفظ ہے اس کا کس قدر شدید اثر ہے۔اتحادی، دوست، ساتھی ان سب الفاظ کا ایک اثر ہے۔اسی طرح کانگرس کے زور کے زمانے میں ٹوڈی بچہ جھولی چک ، طاعونی کیڑے وغیرہ الفاظ وضع کئے گئے تھے اور ان کا کس قدر گہرا اثر تھا۔عدم تشد دسوراج ، اکھنڈ ہند ، پاکستان۔ان سب الفاظ کے پیچھے بہت بڑے مطالب پوشیدہ اور پنہاں ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ مذہبی خیال کے لوگوں کی مذمت دقیانوسی اور اولڈ فیشن کے الفاظ سے کی جاتی تھی۔بالکل اسی سائیکالوجی کے ماتحت ان لوگوں نے جنہوں نے سلسلہ میں ایک فتنہ کی بنیاد رکھی۔ہر اس شخص کی بھیانک تصویر پیش کرنے کی کوشش کی جو ان کے خیالات کے راستے میں روک تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود پر بھی ڈھنگ ڈھنگ سے اعتراض کئے۔انہوں نے حضرت اُم المؤمنین علیہا السلام پر بھی اعتراض کئے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد پاک پر بھی اعتراض کئے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خسر پر اعتراض کئے۔انہوں نے خلافت اولیٰ پر بھی اعتراض کئے اور مجھے فخر ہے کہ ان پاکبازوں کی جماعت کے ساتھ میرے والد بزرگوار حضرت عرفانی کبیر پر بھی