سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 160
160 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ کی قلم کی وجہ سے بد نام ہوں۔جب ان کی دلی کدورت کا یہ حال ہے تو جو روپیہ وہ قومی کاموں کے نام سے بٹورتا ہے جس کا اس نے کبھی حساب نہیں دیا اس میں کس اخلاص سے کام لیتا ہوگا۔۔انہوں نے ساری قوم کو الو بنا رکھا ہے۔ے۔لوگوں میں پیر پرستی کا زور بڑھ رہا ہے۔یه شخض خواجہ صاحب اور ڈاکٹر عباد اللہ صاحب کی ڈاڑھی منڈی ہوئی اور انگریزی فیشن میں ملبوس ہونے کے فوٹو لئے پھرتا رہا۔۔جماعت میں سے پیر پرستی کی بنیاداً کھاڑنے کی سخت ضرورت ہے تا کہ ایسے لوگوں کی زبانیں بند ہوسکیں۔۱۰۔سلسله مولوی نورالدین صاحب یا میرزا محمود صاحب کا نہیں بلکہ جملہ احمد یوں کا ہے۔میہ دس باتیں اس تحریر سے نکلتی ہیں۔اظہار الحق ٹریکٹ ایک خفیہ انجمن کا سرکلر تھا جس کا مرکز احمد یہ بلڈنگس لاہور میں تھا۔اگر ان دس باتوں کی تردید پر پورے زور سے لکھا جائے تو یہ بجائے خود ایک کتاب کا مضمون ہے اور اس کتاب میں اس کی گنجائش نہیں۔تا ہم میں سرسری نگاہ سے ان اعتراضات پر کچھ لکھ دینا چاہتا ہوں۔(1) حضرت میر صاحب کا معمول یہ تھا کہ وہ حق کو حق کہتے تھے اور باطل کو باطل۔چنانچہ جب تک ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی پر یقین نہ آیا انہوں نے پوری طاقت سے مقابلہ کیا اور جب ان پر حق کھل گیا تو پھر اس کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔جب ان کا یہ اصول تھا اور اسی اصول کے ماتحت ایک وقت انہوں نے اپنے عزیز ترین عزیز کی بھی مخالفت کی تو ان سے یہ توقع رکھنی کہ وہ ان لوگوں کی ناجائز باتیں دیکھتے ہوئے بھی ان کی طرف داری کریں گے۔این خیال است و محال است و جنوں کیا خواجہ صاحب یا مولوی محمد علی صاحب یا کوئی اور صاحب محض اس لئے کہ وہ بظاہر بڑے سمجھے