سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 129
129 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ سلسلہ ملازمت میں تبدیلیاں حضرت میر صاحب سلسلہ ملازمت میں بہت جگہ رہے۔ضلع گورداسپور میں سٹھیالی، کا ہنووان، تتلہ وغیرہ میں رہے۔پھر آپ کی تبدیلی ضلع لاہور میں ہوگئی اور وہاں سے انبالہ چھاؤنی میں ہوگئی۔وہاں سے لدھیانہ ، لدھیانہ سے پٹیالہ اور پٹیالہ سے پھر لدھیانہ اور وہاں سے پھر پٹیالہ میں تبدیلی ہوگئی۔پٹیالہ سے پھر فیروز پور تبدیلی ہوئی۔یہ ۱۸۹۳ء کا زمانہ تھا۔فیروز پور سے آپ کی تبدیلی آتھم کے رشتہ داروں نے ہوتی مردان میں کرا دی۔حضرت میر صاحب کو مردان پسند نہ آیا۔طبعیت اچاٹ رہتی تھی اس لئے کر لولے لی اور قادیان آگئے اور اسی فرلو کے بعد آپ کی پنشن ہوگئی اور آپ ہمیشہ کیلئے قادیان کے ہو گئے۔یہ مختصر حالات ان کی ملازمت کے ایام کے ہیں۔تفصیل کے لئے حضرت عرفانی کبیر کی کتاب حیات ناصر‘ ملاحظہ فرمائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلقات کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے میں بالکل لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل تھے مگر میرزاغلام قادر صاحب جو ابتداء میں محکمہ نہر میں ملازم تھے اور بعد میں بعض دیگر ملازمتوں میں بھی رہے۔بحیثیت ایک اہلکار ہونے کے ضلع کے تمام اہلکاروں سے میل جول اور تعلق رکھتے تھے۔میر ناصرحسین صاحب سے جو حضرت میر صاحب کے ماموں تھے مراسم دوستی رکھتے تھے۔ان کی وجہ ہی سے حضرت میر صاحب کی بھی ان سے واقفیت ہو چکی تھی۔میر صاحب جب موضع بتلہ میں نہر کی گھر وائی کروا ر ہے تھے ان دنوں حضرت نانی اماں یعنی حضرت اُم المؤمنین کی والدہ کچھ بیمار ہوگئیں تو میرزا غلام قادر صاحب نے جواکثر گورداسپور سے آتے ہوئے ادھر سے گزرا کرتے تھے۔میر صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو بغرض طبی مشورہ قادیان حضرت میرزاغلام مرتضی صاحب کے پاس لے جائیں۔چنانچہ بغرض طبتی مشورہ آپ قادیان آئے۔یہ قادیان میں پہلی آمد اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے تعارف کے سلسلہ میں ایک مزید قدم تھا مگر در اصل یہ بیماری تو ایک بہانہ تھی ورنہ مشیت ایزدی اس کے پیچھے کھڑی ہنس رہی تھی۔