سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 105 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 105

105 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ خان کی خاطر داری کرے۔اس لئے وہ ذوالفقار خان کی کچھ نہ سنتا تھا۔اے اسی طرح سیر المتاخرین نے بھی لکھا ہے کہ معز الدین جہاندار شاہ نے گوگلتاش کو خانِ جہان کا خطاب دیا تھا اور اس پر جو اعتماد تھا اس میں روز بروز اضافہ کرتا جاتا تھا۔سے خان جہان گوگلتاش کو بادشاہ کسی وقت اپنے سے الگ نہیں کرتا تھا اس لئے جب فرخ سیر جہاندار شاہ سے لڑنے کے لئے آیا تو اس وقت ۱۲ ذیقعدہ ۱۲۲ھ دوشنبہ کی شب کے دو بجے جہاندار شاہ شاہجہان آباد سے لڑنے کے لئے اکبر آباد کی طرف روانہ ہوا۔ہر اول کی فوج کا افسر ذوالفقار خان تھا۔گوگلتاش خان جہاندار کے ساتھ تھا۔ستر اسی ہزار فوج ساتھ تھی۔سے فرخ سیر اور جہاندار شاہ کی جنگ ۱۴/ ذی الحج کو میدانِ جنگ میں دونوں طرف کی فوجیں جم گئیں۔خان جہان بمع اعظم خان و جانی خان ہمراہیان کے دست راست پر تھے۔اُن کے مقابل پر خان زمان اور جھیلہ رام ٹھا کر صف آرا ہوئے۔جنگ نے نازک صورت اختیار کر لی خانِ جہان جہاندار شاہ کی طرف جارہے تھے کہ خان زمان اور جھیلہ رام کمین گاہ سے نکل کر حملہ آور ہوئے اور خان جہان کو مجروح اور بے دست و پا کر دیا۔۵ چونکہ تاریخ میں اس واقعہ کے بعد خان جہان کا ذکر نہیں آتا۔اس لئے اغلب خیال ہے کہ وہ زخموں سے چور ہو کر مر گئے۔میں لکھ چکا ہوں کہ خان جہان کے ساتھ جو افسرانِ فوج اعظم خان اور جانی خان تھے۔اعظم خان کے متعلق سیر المتاخرین کے مصنف نے لکھا ہے کہ وہ گوگلتاش خان کے بھائی تھے۔وہ بھی اس جنگ میں زخمی ہو کر مارے گئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نواب خان دوران کے دیگر عزیز رشتہ دارا کبر و بہادرشاہ کے زمانے یا اس سے بھی پہلے سے حکومت کے مناصب جلیلہ پر فائز تھے۔بادشاہان وقت کو ان پر پورا پورا اعتماد تھا اور با وجو د اس کے کہ وہ زمانہ وساوس اور فتنہ سازی کا زمانہ تھا۔مگر ان لوگوں کا مقام اس قدر مضبوط تھا کہ ان کو کسی قسم کا خطرہ کبھی دامن گیر نہ ہوا۔