سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 104 of 677

سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 104

104 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کا جدی خاندان اس وقت تک ہم نے حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ننھیال کے خاندان کا ذکر کیا تھا اب ہم آپ کے ددھیال کا مختصر ذکر کریں گے۔نواب خان دوران حضرت میر ناصر نواب صاحب کے جدی بزرگوں کا سلسلہ خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔اس سلسلہ کی درمیانی کڑیوں کی میں تلاش نہیں کر سکا۔مگر اس سلسلہ میں سب سے قریب کے زمانے میں جس نامور بزرگ کا پتہ چلتا ہے وہ نواب خان دوران ہیں۔نواب خان دوران کا اصلی نام خواجہ محمد عاصم تھا اور ان کے والد کا نام خواجہ محمد قاسم تھا مگر تاریخ ہند مصنفہ مولوی ذکاء اللہ صاحب جلد دہم مطبوعہ ۱۸۹۸ء کے صفحہ ۹۵ پر ان کا اصلی نام خواجہ حسن خان لکھا ہے مگر میرا خیال ہے کہ خواجہ محمد عاصم زیادہ درست اور صحیح نام معلوم ہوتا ہے اور سیر المتاخرین جلد ۲ صفحہ پر خواجہ عاصم ہی نام لکھا ہے۔مغلیہ سلطنت میں سادات کرام کو فوج میں بڑے مناصب بآسانی مل جایا کرتے تھے۔تاریخی کاغذات اور قلمی وثائق کے غدر ۱۸۵۷ء میں گم ہو جانے سے بہت سی قیمتی اور تاریخی معلومات دنیا سے نا پید ہوگئیں۔اس لئے ہمارے لئے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہوگا کہ یہ خاندان جو حضرت علاءالدین عطار کا خاندان تھا، کب وارد ہند ہوا۔مگر قرائن اس قدر بتلاتے ہیں کہ سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت علاؤالدین عطار خواجہ محمد ناصر سے گیارہ پشت او پر کے بزرگوں میں سے ہیں۔اس طرح خواجہ میر درد کے خاندان کو حضرت عطار سے تعلق ارادت تھا۔پھر سلسلہ نسب میں دونوں خاندانِ سادات میں سے تھے۔اس لئے قیاس یہی ہے کہ کچھ نہ کچھ تعلق رشتہ داری پہلے سے چلا آ تا ہوگا۔لیکن تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ نواب خان دوران کے نانا جو پہلے اکبر پھر بہادر شاہ اور پھر عزیز میرزا گوگلتاش معز الدین جہاندار شاہ کے زمانے میں فوج کے اعلیٰ عہدے دار تھے۔معز الدین جہاندار شاہ کے مزاج میں اُن کو بڑا دخل تھا اور جو چاہتے تھے کرتے تھے اور جو چاہتے تھے بادشاہ سے کراتے تھے۔گوگلتاش خان اُن کا خطاب تھا اور وہ اسی نام سے مشہور تھے۔چنانچہ مولوی ذکاء اللہ صاحب نے لکھا ہے کہ 'بادشاہ کا ایمان تھا کہ وہ گوگلتاش