سیرۃ حضرت سیدۃ النساء اُمّ المؤمنین نصرت جہان بیگم صاحبہؓ — Page 96
96 سیرت حضرت سیدہ نصرت جہان بیگم صاحبہ اختر سے ہوئی۔ان محترمہ کا نام بی بی روشن آراء بیگم صاحبہ تھا۔ان کے بطن سے وہ عظیم الشان بزرگ پیدا ہوا جو اس مقدس امانت کو جو بخارا سے لائی گئی تھی۔اپنی صلب میں اٹھائے ہوئے تھا اور سلسلہ بسلسلہ یہ امانت منتقل ہوتی آئی تھی اور انقلاب آفرین زمانہ میں شاید خدا نے اس کے طفیل سے اس خاندان کو محفوظ رکھا۔یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ، آپ کی دو ہمشیرگان بھی تھیں۔جن کے نام رفعت النساء بیگم صاحبہ اور انجمن آراء بیگم صاحبہ تھے۔پہلی کی شادی قصبہ جلیسر میں پیر جی بشیر الدین صاحب سے ہوئی اور دوسری کی شادی مولوی محمد یوسف صاحب ولد مولوی عبدالقیوم صاحب دہلوی سے ہوئی جو شاہ اسحاق صاحب محدث دہلوی کے نواسے تھے اور بھوپال میں رہتے تھے۔سید محمد نصیر کی وفات کے بعد پھر خلافت کا مسئلہ اٹھا کیونکہ ان کے بیٹے تو پہلے ہی فوت ہو چکے تھے اس لئے مشورہ کے بعد یہ قرار پایا کہ بی امانی بیگم سے پوچھا جائے جو خواجہ میر درد صاحب کی پوتی تھیں۔تمام مشایخ ڈیوڑھی پر جمع ہوئے اور یہ سوال کیا۔آپ نے فرمایا: جس رتبہ کے بزرگ خواجہ میر درد صاحب اور میراثر صاحب اور میرے والد خواجہ صاحب میر تھے۔ویسا تو اب خاندان میں کوئی نظر نہیں آتا۔اگر تھے تو میرے شوہر مولوی ناصر جان مگر وہ رحلت فرما چکے ہیں۔اب رسمی سجادہ نشین باقی رہ گئے ہیں۔وہ میں اپنے داماد کو دلوانی نہیں چاہتی۔میرے نزدیک میاں ناصر امیر خواجہ محمد نصیر صاحب کے نواسہ گدی پر بٹھا دیئے جائیں۔“ چنانچہ بی امانی بیگم کے اس ارشاد کو سب نے قبول کیا اور خواجہ ناصر امیر خلیفہ منتخب ہو گئے اور یہاں سے خلافت اور درویشی اور طریقہ محمدیہ کا سلسلہ منتقل ہو کر بالکل ایک دوسرے خاندان میں آ گیا جو ماں کی طرف سے حضرت خواجہ میر درد کا خاندان تھا اور باپ کی طرف سے نواب خان دوران کا خاندان تھا۔حضرت خواجہ میر درد کی پوتی بی امانی بیگم کا ارشاد قابل غور ہے کہ انہوں نے کس اخلاص سے امر خلافت کا فیصلہ فرمایا اور جو حقدار تھا اسی کا نام لیا یعنی جس میں اہلیت تھی اور یہ منشاء الہی کے ماتحت ہوا کیونکہ آخر یہ خلافت محمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روشنی میں ختم ہو جانے والی تھی اس کا ظہور ابتدائی