سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 54 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 54

54 صدی ہے۔“ ( الفضل لا ہور ۱۷ رمئی ۱۹۵۲ صفحہ۱) حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کو سکول کا معیار بڑھانے کی کس قدر فکر تھی۔باوجودیکہ آپ کا ادارہ یونیورسٹی میں نمایاں پوزیشن حاصل کر رہا تھا۔آپ اس سکول کو بہت بلند دیکھنا چاہتے تھے اور بچوں کے والدین سے بھی ایسی ہی توقع رکھتے تھے۔ذیل کی تحریر غالباً آپ کی آخری تحریر ہے۔اس کے چھ ماہ بعد آپ کا وصال ہو گیا۔آپ تحریر فرماتے ہیں۔ٹی آئی سکول میں دوست اپنے ذہین بچوں کو بھی بھجوائیں اس میں شک نہیں کہ تعلیم کے اعلیٰ معیار کو قائم رکھنا اور یونیورسٹی میں پوزیشن حاصل کرنا ہمارا نصب العین اور دوستوں کی زبردست خواہش ہے۔لیکن امسال دوستوں کی اس خواہش کو پورا کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں۔کیونکہ اس وقت تک جو نئے طلباء ہمارے ہاں آکر داخل ہوئے ہیں ان کی تعلیمی حالت نا گفتہ بہ ہے۔ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ یو نیورسٹی میں کوئی پوزیشن حاصل کر سکیں گے ایک خام خیال ہے۔پوزیشن در کنار ان کا محض پاس ہونا ہی کارے دارد والا معاملہ ہے۔گویا اب تک احباب جماعت نے صرف کمزور ہی کمزور بچے بھیج کر بجائے سکول کا نام روشن کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کرنے کے الٹا ہمارے لئے دردسری کا سامان مہیا کر دیا ہے۔اس لئے اب میں ایسے دوستوں سے جن کے بچے نسبتاً ہو نہار ہیں یہ درخواست کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ وہ بھی اپنے سکول کی طرف توجہ فرمائیں اور اپنے ایسے بچوں کو جن میں ہماری توجہ اور محنت سے فائدہ اُٹھانے کی اہلیت موجود ہو۔ان کو بھی ہمارے پاس بھجوائیں۔ہم ایسے والدین کو جن کے بچے تعلیم میں اچھے ہوں۔یقین دلاتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے بچوں کو ان کی موجودہ حالت سے بہت زیادہ بہتر بنا سکتے ہیں۔الا ماشاء اللہ انہیں خود بھی یہاں آنے سے فائدہ ہوگا اور ان کا اپنے قومی ادارہ پر احسان مزید براں ہو گا۔ہونہار بچے ہی ہماری ڈھارس ہو سکتے ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ دوستوں کی بے توجہی کی وجہ سے ہونہار عنصر کا یہاں فقدان ہے حالانکہ ذہین بچے ہی قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان پر سلسلہ کا حق فائق ہے۔(افضل لاہور سے جون ۱۹۵۲ صفحیم)