سید محموداللہ شاہ — Page 47
47 دریاں اور دیگر پار چات حاصل کئے گئے اور پھر پڑھائی شروع ہوئی۔پہلے دن سکول میں صرف ۲۵ طلبہ حاضر تھے جن کیلئے نہ مکان کا انتظام تھا اور نہ ہی مناسب قیام کا۔مگر رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ نے تو فیق عطا فرمائی اور ہمیں مکان رہائش کے لئے مل گئے۔اس کے علاوہ ایک بلڈنگ بطور بورڈنگ بھی استعمال میں لائی گئی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے احسن انتظام کے مطابق طلباء سکول اور بورڈنگ میں ہر روز وقار عمل کرتے اور فرش، دیواروں وغیرہ کی مکمل صفائی کرتے۔آہستہ آہستہ طلباء کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔چنانچہ ایک ماہ کے بعد جب انسپکٹر صاحب محکمہ تعلیم کی طرف سے سکول کا معائنہ ہوا تو طلباء کی تعدادا تھی اور اس کے علاوہ طلباء کی محنت اور پڑھائی بھی اسی ذوق شوق کے ساتھ جاری تھی۔انسپکٹر صاحب نے معائنہ پر اطمینان کا اظہار کیا۔جناب ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ نے ہمیں سکول کیلئے اینٹیں اور عمارتی لکڑی عطا فرمائی۔جس سے طلباء کیلئے عارضی طور پر پیچ بنوائے گئے اور کچھ کرسیاں اور میزیں بھی بنوائی گئی۔اس کے علاوہ محکم تعلیم کی طرف سے مبلغ ۵۰۰۰ روپیہ بطور امدادی گرانٹ بھی عطا ہوا۔آخر اپریل میں طلباء کی تعداد ۲۲۵ ہوگئی اور بورڈنگ کی تعداد بھی ۱۰۰ کے لگ بھگ ہوگئی۔الفضل میں اور خطوط کے ذریعے سے والدین کو توجہ دلائی گئی کہ وہ اپنے لڑکوں کوتعو الاسلام ہائی سکول میں تعلیم کیلئے بھیجیں۔اس کا بفضل خدا خاطر خواہ نتیجہ ہوا۔چنانچہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعداد طلبہ ۳۰۰ سے زائد ہو چکی ہے اور روز بروز بڑھ رہی ہے چونکہ طلباء کی تعداد شروع میں نسبتا کم تھی اور بجٹ میں بھی کئی مدات کی تخفیف کی گئی تھی اس لئے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے نصف سے زیادہ سٹاف کو تخفیف میں لایا گیا۔گوان اسا تذہ کی خدمات کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے ہم نے یہ وعدہ بھی کیا کہ انہیں انشاء اللہ تعالیٰ عند الضرورت واپس بلا لیا جائے گا۔اب ان میں سے بعض اساتذہ کو واپس بلایا جا رہا ہے۔اس موقعہ پر نظارت خصوصاً سید محمود اللہ شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول ، چوہدری عبدالرحمن صاحب بی اے بی ٹی سپرنٹنڈنٹ، سید سمیع اللہ شاہ صاحب بی اے بی ٹی، ماسٹر محمد ابراہیم صاحب بی اے بی ٹی، مکرم صوفی محمد