سید محموداللہ شاہ — Page 37
37 ہندوستان کا خلاصہ شائع کیا گیا اور ساتھ ہی آپ کا فوٹو۔اس طرح اس تقریر کے خلاصے بعض دیگر اخبارات نے بھی جو ممباسہ سے نکلتے ہیں شائع کئے۔“ (روز نامه الفضل قادیان ۱۵ جون ۱۹۴۱ء ) حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کا سماجی حلقہ احباب خاص وسیع تھا۔آپ جہاں بھی رہے وہاں اپنے محاسن اخلاق کے حسین نقوش بطور یاد گار چھوڑے کینیا جو کہ کئی اقوام اور مذاہب و ملل کا نام تھا اس میں ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگ آباد تھے۔سکھ صاحبان بھی اس ملک کا ایک اہم رعایا تھے۔جماعت احمد یہ کینیا کے ۱۹۴۰ء کے عشرہ میں سکھ صاحبان سے بہت دوستانہ مراسم تھے۔نیروبی کینیا میں برصغیر کے لاکھوں افراد آباد ہیں ہندو سکھ ، عیسائی اور دوسرے مذاہب کا ایک مشترکہ معاشرہ وہاں آباد ہے۔آج سے ساٹھ سال قبل جو صورتِ حال وہاں تھی آج بھی وہاں مختلف الاقوام والمذاہب لوگ آباد ہیں۔۱۹۴۰ء کے عشرہ میں جماعت احمد یہ نیروبی کے سماجی سطح پر سکھ صاحبان سے دوستانہ روابط تھے اور سکھ احباب کئی تقاریب میں شامل ہوئے اس طرح وہ اپنی تقریبات میں تقاریر کرنے کیلئے حضرت محمود اللہ شاہ صاحب اور دیگر معزز افراد جماعت کو دعوت دیتے۔اپریل ۱۹۴۱ء کو ایسی ہی تقریب کا انعقاد ہوا جس کی ایک جھلک اس رپورٹ سے ظاہر ہے۔مکرم و محترم محمد شریف صاحب سیکرٹری دعوۃ الی اللہ نیروبی لکھتے ہیں۔جماعت احمد یہ نیروبی اور سکھ صاحبان کے دوستانہ تعلقات نیروبی ۱۳ / اپریل ۱۹۴۱ء۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے قرآنی تعلیم کے ماتحت موجودہ زمانہ میں امن عالم کی جو بنیاد رکھی ہے اور مختلف اقوام میں قیام اتحاد کے جو قیمتی اصول بیان فرمائے ہیں۔وہ جوں جوں سعید لوگوں تک پہنچتے ہیں وہ ان کی قدر و قیمت سمجھ رہے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ہم نے نیروبی میں جب حضرت اقدس کی کتاب پیغام صلح کا گورمکھی ترجمہ تقسیم کیا تو بعض سکھوں نے کہا کہ یہ رسالہ زیادہ تعداد میں چھپوائیں۔ہم اس کی اشاعت کیلئے روپیہ بڑی خوشی سے دیں گے۔پھر ایک تعلیم یافتہ سکھ دوست نے جو انگلستان وغیرہ رہ آئے ہیں عاجز سے کہا کہ اب آئندہ دنیا میں امن حضرت مرزا صاحب کی جماعت کے ذریعہ ہی قائم ہوگا“