سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 146 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 146

146 تشریف لے آئے اور وہاں سے آپ نیروبی کے لئے روانہ ہو گئے نیروبی جانے کی تقریب کچھ اس طرح پیدا ہوئی کہ وہاں نیروبی میں ان کے ایک دوست تھے۔بیرسٹر ملک حسن محمد یا محمد حسین صاحب تھے۔ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ یہ DC بنے گا۔انہوں نے حضرت شاہ صاحب کو لکھا کہ کینیا میں ایک ایجو کیشن آفیسر کی ضرورت ہے۔آپ یہاں نیروبی میں آجائیں یہاں ملازمت میں زیادہ فائدہ ہے میں نے حضرت شاہ صاحب سے پوچھا کہ آپ کیوں بیرسٹر صاحب کے کہنے پر نیروبی کے لئے تیار ہو گئے تھے۔اس پر انہوں نے کہا۔ایک تو مجھے دل میں یہ بہت خیال رہتا تھا کہ میری تعلیم پر اتنا پیسہ خرچ کیا گیا ہے۔اب اس قرض کی واپسی کا بھی اہتمام کیا جانا چاہئے لیکن میں نے اس بات کا کبھی کسی سے تذکرہ نہیں کیا تھا۔اس لئے میں نیروبی چلا گیا۔نیروبی میں حضرت شاہ صاحب قریباً اٹھارہ برس مقیم رہے۔نیروبی میں اب میں آپ کو ان کی نیروبی کی زندگی کے بارہ میں بتاتی ہوں۔آپ وہاں جاتے ہی جماعتی خدمات بجالانے لگے۔وہاں علمی ادبی اور سماجی جتنی بھی تنظیمیں تھیں ان میں سے کسی کے پریذیڈنٹ بنے کسی کے سیکریٹری رہے یا کسی کے متحرک ممبر رہے۔اس طرح نیشنل سطح پر آپ خاصے مقبول تھے۔اس زمانہ کی ہمارے پاس ان کی تصاویر بھی تھیں جو قادیان میں رو گئیں تھیں۔ان میں سے ایک تصویر سر آغا خان صاحب کے ساتھ تھی۔سر آغا خان کسی موقعہ پر نیروبی آئے تھے۔بہر حال اس طرح کی کئی ان کی یاد گار تصاویر تھیں۔حضرت شاہ صاحب کو اکثر گورنر ز مختلف تقاریب میں مدعو کیا کرتے تھے۔ایسے ہی موقعہ پر ان کی سر آغا خان صاحب سے ملاقات ہوئی اس تقریب میں سر آغا خان صاحب نے سب سے ہاتھ ملائے اور حضرت شاہ صاحب کو گلے لگایا۔تو اس وقت گورنر صاحب نے سر آغا خان سے کہا کہ آپ نے کیوں انہیں گلے لگایا ہے جبکہ باقی سب سے ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: