سید محموداللہ شاہ — Page 137
137 نہیں سکتے۔کیونکہ ہماری مثال تو اس شفاخانہ کی سی ہے جس میں بیماروں کو شفا پانے کے لئے داخل کیا جاتا ہے اور کمز ور طلباء کو ہمارے ہاں نیز ان کو بھی جن کی اخلاقی حالت گھر پر نہیں سدھر سکتی اور ان کو ان کے والدین کے نزدیک ہمارے ہسپتال میں داخل کرانا طالب علم کی زندگی پچانے کے لئے ضروری ہوتا ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مقدور بھر علاج کرتے بھی ہیں اور خدا تعالیٰ کی توفیق سے عام طور پر ایسے بیماروں کو صحت بھی میسر آ ہی جاتی ہے۔لیکن جہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کریں (چنانچہ افسران تعلیم کی نظر میں ہمارے اساتذہ خدا کے فضل سے طلباء کو شوق اور محنت سے پڑھانے میں یکتا ہیں ) اگر دوست بجائے Eleventh Hour پر مریض کو ہسپتال میں داخل کروانے کے بیماری کے آثار نمودار ہوتے ہی ہمارے سپرد کر دیا کریں تو اس سے آپ کے اس قومی ادارہ کی شہرت خدا تعالیٰ سے فضل سے ماند نہ پڑنے پائے گی۔آپ اپنے بچوں کو دو تین سال ہماری تربیت میں رکھیں اور ہونہار بچوں کو اپنے پاس رکھ کر بخل سے کام نہ لیں بلکہ ہر استعداد کے لڑکوں کو یہیں بھیجیں۔کیونکہ وہ ہمارا مشتر کہ سرمایہ ہیں۔تو پھر آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری مشترکہ کوششیں اور دعائیں اغیار کے مقابلہ میں ہر رنگ میں کیسے شاندار نتائج پیدا کرتی ہیں۔علمی ادبی اور دیگر مشاغل خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم قوم کی اس امانت کو یعنی آپ کو ظاہری علوم کے علاوہ باطنی اور روحانی علوم سے بھی بہرہ ور کرنے میں برابر کوشاں رہتے ہیں تا کہ جب ہمارے بچے سکول کی تعلیم کو مکمل کرلیں تو باہر دنیا کے کسی میدان میں دوسروں سے پیچھے نہ رہیں۔نماز ، روزہ ، حتی الوسع تہجد کی عادت ڈالنا عام اخلاقی حالت کے سدھارنے میں یوں تو ہم لگے ہی ہوئے ہیں مگر وہ بات کہاں جو (احمدیوں ) کے مرکز ربوہ شریف کی فضائے پاک میں پیدا ہوسکتی ہے۔البتہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی توجہ اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ربوہ میں سکول کی عمارت تعمیر ہورہی ہے اور اگر آپ نے اساتذہ کو جن کو میں آپ سے چندہ لینے کی خاطر آپ کی خدمت میں بھجوا رہا ہوں، اپنے اخلاص کے مطابق چندہ دیا تو سکول اور عملہ کے کوارٹر ، بورڈنگ ہوٹل