سید محموداللہ شاہ — Page 131
131 ,, انتقام محمود حضرت صاحب نے خلافت نمبر کیلئے ایک بصیرت افروز مضمون رقم فرمایا جواخبار الحکم قادیان میں شائع ہوا۔یہ مضمون ”انتقام محمود“ کے عنوان سے شائع ہوا۔جس میں آپ فرماتے ہیں: موسم گرما کی ابتدا تھی۔گو ابھی میں بہت بچہ تھا۔مگر حسیات غیر معمولی طور پر تیز تھیں۔میں گردو پیش کے تاثرات اور تغیرات سے بہت متاثر ہوا کرتا تھا۔میری والدہ رحمت اللہ علیہا چند روز سے نہایت پریشان اور مضطرب تھیں۔رات کو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کے بار بار دیکھتیں اور بے قرار ہو کر کہتیں ”میرے اللہ رحم کر ستارے مرجھائے ہوئے ہیں ایسا 66 9966 996 معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے میں سہم جاتا، خوف زدہ ہو جاتا، دن بھر میں اس مہم اور غیر معین ” کچھ ہونے والا ہے۔‘ کے فکر میں غلطاں رہتا۔میری والدہ ان پر اللہ کی ان گنت برکات ہوں ) بھی کہتی تھیں۔ان کی گھبراہٹ بجا تھی۔درست تھی۔ان کی روح ہونے والے سانحہ سے آگاہ تھی۔خود خالق الافلاک بھی متامل تھا۔ہائے وہ ساعت آ پہنچنی جبکہ رب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ناموس علیہ الصلواۃ کو یعنی احمد علیہ السلام کو اپنے پاس بلانے کو تھا۔موسم بہار رخصت ہوا۔رخصت کیا ہوا۔۔۔۔دنیا جہان کی مسرتیں ، نفرتیں ، کامرانیاں، ظفر یا بیاں اپنے ساتھ لیتا گیا۔پنجاب کے دار الحکومت میں حضرت احدیت کا محبوب چند روز کے لئے تشریف لے گیا۔اس کی زندگی کے آخری لمحے آپہنچے۔اس کی آنکھیں جو ایک عالم کے ساتھ مسیحائی کر رہی تھیں مُند گئیں۔اس کے سانس جو عدوان جہان کو خاکستر بنا بنا کر اس زمین کو پاک اور مطہر کیا کرتے تھے۔رُک گئے۔آہ ! صد آہ!! یہ سب کچھ اس کی اپنی خواہش سے ہوا۔وہ اس غریب الوطنی کی زندگی سے اکتا گیا تھا۔وہ ایک ماہی بے آب سے کروڑوں گنے زیادہ بے قرار تھا۔اپنے رفیق اعلیٰ کے پاس جانے کو وہ