سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 130 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 130

130 اپنے ماحول میں اپنی راحت پاتا ہے جسے تم افسردگی سمجھتے ہو۔وہی میری کائنات مسرت ہے۔دیکھا تم میں اور مجھ میں کس قدر تفاوت ہے۔بعد مشرقین ہے۔جبھی میں کہتا تھا چھوڑ دو مجھے تنہائی میں چھوڑ دو۔میں میلوں چلتا ہوں۔چلتا چلا جاتا ہوں۔میں اپنے خیالات میں منہمک و مستغرق ہوتا ہوں نہ کسی کو مجھ سے واسطہ نہ مجھے کسی سے سروکار۔راہ چلتی دنیا مجھے دیکھتی ہے۔دیکھ کر مسکرادیتی ہے۔ہاں میں خوب سمجھتا ہوں ان کی مسکراہٹ کو۔ان کا تبسم تحقیر آمیز ہوتا ہے۔”ہو نہ ہو یہ کوئی پرانے زمانوں کا بچھڑا ہوا راہ گزار ہے۔نہیں یہ تو دیوانہ معلوم ہوتا ہے۔دیوانہ تو 9966 66 22۔66 خیر نہیں کہہ سکتے آدمی تو بظاہر بھلا چنگا معلوم ہوتا ہے۔دیکھتے نہیں یہ کس طرح چلا جا رہا ہے۔اسے موجودہ تہذیب کی نیرنگی و دلبر بائی چھوتک نہیں گئی۔" ہاں تم سب سچ کہتے ہو۔درست کہتے ہو۔تمہاری رائے زنی صحیح ہے۔بے شک میں صدیوں کا بچھڑا ہوا راہرو ہوں۔میں حقیقت میں دیوانہ بھی ہوں۔ہاں اس میں صداقت کا شائبہ ضرور ہے کہ میں بظاہر اچھا بھلا ہوں۔یہ تم نے بالکل ٹھیک کہا کہ موجودہ تہذیب کی رعنائیاں میری نظر میں بے معنی اور مہمل ہیں کھیل تماشے سینما تھیڑ ناچ رنگ کے جلسے کلب کی زندگی موجودہ تمدن کے لہو ولعب میرے لئے بازیچہ اطفال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ایک بات تمہیں بتاؤں۔سن لو! مانا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔دیوانے بھی بسا اوقات کام کی بات کہہ دیتے ہیں۔جسے تم زندگی سمجھے ہوئے ہو میں اسے سگِ مردار سے بھی گھناؤنی شے سمجھتا ہوں ” پھر زندگی کیا ہے؟“ موت اور کامل موت۔نفس کی لذات کو، جسم کے آرام کو خواہشات اور تمناؤں کو بکلی طور پر کچل دو۔جلا دو۔ان کی راکھ میں سے زندگی نمودار ہوگی ، بڑھے گی ، بڑھتی چلی جائے گی ، ابد الآباد تک، ہمیشہ ہمیش مکان و زماں کی قید سے آزاد ہوکر۔ہاں یہ مشکل ہے۔سخت مشکل ہے۔مگر : مشکلی نیست کہ آساں نہ شود اخبار الحکم قادیان ۷ را پریل ۱۹۳۷ صفحه ۶،۵)