سید محموداللہ شاہ — Page 111
111 کوئی کتاب لے لیں اس کا ایک صفحہ پڑھیں بے شک بار بار پڑھیں پھر کتاب بند کر دیں اور اس صفحہ کے مضمون کو انگریزی میں لکھیں۔میں نے اس طریق کو آزمایا اور بہت ہی مفید پایا۔آپ کے شاگرد جب ہمارے حضرت صاحب (حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) اور خاکسار لندن یونیورسٹی کے طالب علم تھے تو ہماری ایک کلاس میں کینیا کے ایک ہندی الاصل ہندو طالب علم بھی آ کر شامل ہوئے باتوں باتوں میں جب اس طالب علم کو یہ علم ہوا کہ ہم دونوں کا تعلق اسی جماعت سے ہے جو سید محمود اللہ شاہ صاحب کی جماعت ہے اور میاں طاہر احمد حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے بھانجے ہیں تو اس ہندو طالب علم کا رویہ ہم دونوں سے حد درجہ احترام اور عقیدت کا ہو گیا۔کیونکہ یہ طالب علم کینیا میں اس سکول میں پڑھتے تھے جن میں محترم شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر تھے۔(۷ نومبر ۲۰۰۲ء)