سوشل میڈیا (Social Media) — Page 88
اس سے غلط قسم کی بعض باتیں نکلتی ہیں اور پھر اس شخص کے لئے بھی پریشانی کا موجب بن جاتی ہیں۔خاص طور پر لڑکیوں کو تو بہت احتیاط کرنی چاہیے۔لیکن بہر حال میں یہ اعلان کر دینا چاہتا تھا کہ یہ جو فیس ٹک ہے اور اس میں وہ لوگ جن کے اپنے فیس بُک کے اکاؤنٹ ہیں، وہ آ بھی رہے ہیں، پڑھ بھی رہے ہیں، اپنے منٹس (comments) بھی دے رہے ہیں جو بالکل غلط طریقہ کار ہے اس لئے اس سے بچیں اور کوئی اس میں شامل نہ ہو۔اگر ایسی کوئی صورت کبھی پیدا ہوئی جس میں جماعتی طور پر کسی قسم کی فیس ٹک کی طرز کی کوئی چیز جاری کرنی ہوئی تو اس کو محفوظ طریقے سے جاری کیا جائے گا جس میں ہر ایک کی access نہ ہو اور صرف جماعتی مؤقف اس میں سامنے آئے اور اس میں جس کا دل چاہے آ جائے۔کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ بعض مخالفین نے بھی اپنے کمنٹ (comment) اس پر دئیے ہوئے ہیں۔اب ایک تو ویسے ہی غیر اخلاقی بات ہے کہ کسی شخص کے نام پر کوئی دوسرا شخص چاہے وہ نیک نیتی سے ہی کر رہا ہے وہ بغیر اس کو بتائے کام شروع کر دے۔اس لئے جس نے بھی کیا ہے اگر تو وہ نیک نیت تھا تو وہ فوراً اس کو بند کر دے اور استغفار کرے اور اگر شرارتی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے خود بیٹے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور جماعت کو ترقی کی راہوں پر چلاتا چلا جائے۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 31 دسمبر 2010ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن) ) مطبوعہ افضل انٹر نیشنل 21 جنوری 2011ء) 88