سوشل میڈیا (Social Media)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 79 of 130

سوشل میڈیا (Social Media) — Page 79

کرنے والے اعمال کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے۔اپنے آپ کو تکلیف اور دُکھ میں ڈالنا پڑتا ہے۔لیکن دُکھ میں ہمیشہ نہیں رہتا انسان عمل کرنے میں بیشک دُکھ ہے لیکن دُکھ میں ہمیشہ نہیں رہتا انسان۔فرمایا لیکن جب انسان خدا کے لئے دُکھ اٹھانے کے لئے تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس کو دُکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔۔۔۔ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری تیار کر لی تو اللہ تعالی نے اس کے بیٹے کو بچا لیا۔بیٹے کی جان بھی بچ گئی اور باپ کو بیٹے کی قربانی کی وجہ سے جودُ کھ ہونا تھا اس دُکھ سے بھی نجات ہو گئی۔فرمایا کہ وہ آگ میں ڈالے گئے (حضرت ابراہیم علیہ السلام) لیکن آگ اُن پر کوئی اثر نہ کرسکی۔فرماتے ہیں کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ تکالیف 66 دو سے بچالیتا ہے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 429-430۔ایڈیشن 1985 مطبوعہ انگلستان ) پھر فرمایا: مختصراً بعض انتظامی باتوں اور واقفین کے لئے لائحہ عمل کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔بعض واقفین نو کے ذہنوں میں غلط فہمیاں ہیں کہ وقف کو ہو کر ان کی کوئی علیحدہ ایک شناخت بن گئی ہے۔شناخت تو بیشک بن گئی ہے لیکن اس شناخت کے ساتھ ان سے غیر معمولی طور پر امتیازی سلوک نہیں ہوگا بلکہ اس شناخت کے ساتھ ان کو اپنی قربانیوں کے معیار بڑھانے ہوں گے۔بعض لوگ اپنے واقفین کو بچوں کے دماغوں میں یہ 79